شائع 22 اگست 2021 09:43am

موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ کی نجی تصاویر لیک، وضاحتی بیان جاری

پاکستان کے معروف ترین موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ نے سوشل میڈیا پر اپنی وائرل تصاویر کے حوالے سے وضاحت جاری کر دی ہے۔

قاسم علی شاہ کی ذاتی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھیں۔ جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قاسم علی شاہ بذات خود اپنی سیلفی لے رہے ہیں اور تصویر لیتے وقت اُنہوں نے قمیض زیب تن نہیں کی ہوئی۔

اِن تصاویر کے لیک ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر کھلبلی سی مچ گئی۔ کیونکہ قاسم علی شاہ کے پاکستان میں بہت سے چاہنے والے ہیں، اس وجہ سے عوام کی رائے دو حصوں میں منقسم ہو گئی۔

ایک ایسا گروہ سامنے آیا جس نے قاسم علی شاہ کی بھرپور حمایت کی اور تصاویر لیک کرنے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب ایک ایسا گروہ بھی سوشل میڈیا پر ان وائرل تصاویر کمنٹس اور پوسٹس کرتا نظر آیا ہے جو قاسم علی شاہ کی مزید تصاویر اور ویڈیوز لیک ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔

تاہم اب موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ نے یوٹیوب اور فیس بُک پر موجود اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ اُن کی کوئی بھی دوسری تصویر اور ویڈیوز سامنے نہیں آئیں گی، کیونکہ انہوں نے صرف لیک ہونے والی تصاویر ہی اپنے کیمرے سے بنائی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ میرے گھر کی تصاویر ہیں اور تین چار سال پرانی ہیں، یہ میری تصاویر کہیں نہ کہیں سے چوری ہوئیں اور پھر لیک کردی گئیں۔

اس دوران انہوں نے گھر کی مزید تصاویر بھی دکھائیں۔

قاسم شاہ کا کہنا تھا کہ گھر میں دھوتی اور بنیان بھی پہن لیتا ہوں، گھر کے اندر کی تصاویر میں قابل اعتراض کیا ہے؟ ان تصاویر پر جو تبصرے کیے جارہے ہیں، ان میں عوام کو انتظار کرایا جارہا ہے کہ مزید تصاویر بھی آنی ہیں۔

مزید تصاویر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میری مزید تصاویر فیملی کے ہمراہ آسکتی ہیں کیونکہ یہ لیک ہوئی ہیں، میری ایسی کوئی نازیبا تصاویر نہیں آئیں گی۔ قاسم علی شاہ نے مزید کیا کہا آپ اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں معروف شخصیات کی نجی تصاویر وائرل ہونے کا ایک رجحان بن گیا ہے۔ گزشتہ دنوں مفتی قوی کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو گئی تھیں، جس میں اُنہیں نازیبا حرکتیں کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اِسی طرح معروف ماڈل رابی پیرزادہ کی بھی نجی تصاویر کسی نے سوشل میڈیا پر وائرل کر دی تھیں۔ بعدازاں رابی پیر زادہ نے انکشاف کیا تھا کہ اُن کی تصاویر موبائل رپیئر کرنے والے نے لیک کیں۔ جبکہ مبینہ طور پر وزیر داخلہ شیخ رشید کا نام بھی تصاویر لیک ہونے کا شکار بننے والوں کی فہرست میں شامل ہے۔

Read Comments