شائع 21 اگست 2021 11:34pm

'شدید سنسرشپ نے تحریروتقریر کی آزادی سلب کرلی ہے'خط

تعلیم کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمیں سینیٹرعرفان صدیقی نے چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے اطلاعات فیصل جاوید کو خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے پی ایم ڈی اے کا قانون کسی بھی وقت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافاذ کردیا جائے،یہ مجوزہ قانون ارکان کمیٹی کو بھی فراہم کیا جائے،

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا، کم از کم مجھ تک یہ مسودہ نہیں پہنچا، تمام میڈیا تنظیموں نے اس حکومتی تجویز کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

خط ان کا مزید کہنا تھا کہ صحافت پر اتنا کڑا وقت مارشل لاء کے دور میں بھی نہیں آیا، شدید سنسرشپ نے تحریروتقریر کی آزادی سلب کرلی ہے۔

خط میں انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی نہیں آئینی آزادی کی ضرورت ہے، عرفان صدیقی نے کہا کہ معاملے پرغور کیلئے سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی کا فوری اجلاس طلب کیا جائے۔

اس سے قبل میڈیا آرگنائزیشن کی جوائنٹ کمیٹی نے پی ایم ڈی اے کو یکسر مسترد کردیا۔

ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تاثر دیا گیا کہ میڈیا آرگنائزیشنز کو پی ایم ڈی اے پر کوئی سنجیدہ اعتراض نہیں جبکہ تمام نمائندوں نے مشترکہ طور پر پی ڈی ایم اے کے ڈرافت کو مسترد کیا ہے۔

میڈیا آرگنائزیشن کی جوائنٹ کمیٹی نے پی ایم ڈی اے کو مسترد کردیا۔

بیان کے مطابق تاثر دیا گیا کہ میڈیا آرگنائزیشنز کو پی ایم ڈی اے پر کوئی سنجیدہ اعتراض نہیں، میڈیا آرگنائزیشنز اور وزارت اطلاعات کی میٹنگ پر بھی گمراہ کن خبریں دی گئیں۔بیان میں ان کا کہنا تھا کہ تمام نمائندوں نے مشترکہ طور پر پی ایم ڈی اے ڈرافٹ کو مسترد کیا۔

Read Comments