لاہور: خاتون کیساتھ دست درازی کا واقعہ، عائشہ کے گھر پولیس تعینات
لاہور گریٹر اقبال پارک میں ہجوم کی بدسلوکی کا شکار ہونے والی خاتون عائشہ کے گھر پولیس نفری تعینات کر دی گئی۔
اہلخانہ کی مرضی کے بغیر کسی شخص کو ملنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
گریٹر اقبال پارک لاہور میں خاتون کے ساتھ بدتمیزی کے معاملے پر پنجاب پولیس کی جانب سے عائشہ اکرم کے گھر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ عائشہ اکرم کا مؤقف ہے کہ دھمکیاں ملنے کے بعد اس کی والدہ بیمار ہو گئی اور والد ذہنی اذیت سے دوچار ہیں۔ افسوسناک واقعے کے بعد بہت سے لوگوں کی کالز موصول ہو رہی تھی جبکہ بڑی تعداد میں لوگ گھر آنا شروع ہو گئے تھے۔
پولیس نے انچارج انویسٹی گیشن شاہدرہ کی سربراہی میں 8 اہلکار عائشہ کے گھر سیکیورٹی پر معمور کر دئیے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عائشہ کی فیملی کی مرضی کے بغیر کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب یوم آزادی کو مینار پاکستان میں خاتون کو ہراساں کرنے کے الزام میں مزید 36 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ گریٹر اقبال پارک میں خاتون کو ہراساں کرنے کے معاملے میں 100 سے زائد افراد کو مشکوک جان کر حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے مزید 36 افراد کو شناخت کے بعد گرفتار لیا گیا ہے۔ تمام ملزمان کو ویڈیو اور تصاویر میں شناخت ہونے پر گرفتار کیا گیا.
آئی جی پنجاب کے مطابق گرفتار ہونے والے تمام ملزمان کی پہلے نادرا سے شناخت کروائی گئی ہے، نادرا سے شناخت کے بعد ملزمان کی باضابطہ گرفتاری ڈالی گئی۔
انعام غنی نے کہا کہ اب تک اس واقعے میں ملوث 66 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تمام ملزمان کو ویڈیو اور تصاویر میں شناخت ہونے پر گرفتار کیا گیا۔