طالبان نےبلیٹ لسٹ افراد کی گھر گھر تلاشی شروع کردی
طالبان نے سابقہ افغان حکومت میں سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں میں خدمات سرانجام دینے والے افراد کی گھر گھر تلاشی شروع کردی۔
طالبان نے بلیک لسٹ میں شامل لوگوں کی گھر گھر تلاش شروع کردی ، ایک نارویجین انٹیلی جنس گروپ کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے ان افغانوں کا گھیراو جن کے مبینہ طور پر سابقہ افغان انتطامیہ سے رابطے رہے ہیں ۔
اس رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان نے سابقہ حکومت کیساتھ اشتراک کرنے والے اور روابط رکھنے والے افراد کی تلاش تیز کردی ہے اور اگر وہ اس تلاشی کے آپریشن میں کامیاب نہیں ہوتے تو گروپ کی جانب سے فیملیوں کو گرفتار اور ہدف کا ہدف کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور انکو شریعی قوانین کے مطابق سزائیں دی جارہی ہیں ۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پولیس ، فوج اور تحقیقاتی یونٹس کی مرکزی پوزیشنز پر خدمات سرانجام دینے والے افراد کی زندگی کو خدشات لاحق ہیں ۔
اس رپورٹ میں ایک چار صفحے پرمشتمل شخص کو خط شامل کیا گیا ہے جوکہ سابقہ افغان حکومت میں اپنی خدمات سرانجام دے چکا ہے۔ خط کے مطابق کابل میں اسکے فلیٹ سے طالبان نے حراست میں لے کر بحیثیت انسداد دہشتگردی کے افسر کے کردار سے متعلق پوچھ گچھ کی تھی۔
یہ رپورٹ میں اقوام متحدہ میں کام کرنے والے افراد اور دیگر ایجنسیز سے شیر کردی گئی ہے۔
رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے حکام نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ اقوام متحدہ نے نہیں تیار کی بلکہ ناریجین سینٹر فار گلوبل اینالیسس کی تیار کردی ہے۔
ایک اور واقعے میں سابقہ افغان حکومت کے ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان سابقہ انٹیلی جنس اہلکاروں اور سیکیورٹی اسٹاف کو تلاش کرنے کیلئے خفیہ نیشنل سیکیورٹی کی دستاویز استعمال کررہے ہیں ۔
طالبان کابل پر قبضے کے بعد اپنا معتدل تاثر دے رہے ہیں تاہم یہ اقدام اس حقیقت کے برعکس ہے ۔
تاہم ابھی تک آزاد ذرائع سے اس حوالے سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے جبکہ اس رپورٹ میں بھی صرف ایک شخص کے خط کو ہی جواز بنایا گیا ہے۔