افغان شہری خوف سے فرار نہ ہوں ، مساجد کے خطیب اپیل کریں ،طالبان کا زور
رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طالبان کی جانب سے مساجد کے امام اور خطیبوں سے کہا گیا ہے کہ وہ افغان عوام سے خوف یا کسی دیگر وجہ کی بناء پر اپنی سرزمین چھوڑ کر نہ جانیکی اپیل کریں۔
کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ایسی تصاویر اور ویڈیوز گردش کررہی تھیں کہ عوام افغانستان سے فرار ہونے کیلئے کابل ایئرپورٹ پر بھاگے جارہے ہیں۔
اب رپورٹس ہیں کہ طالبان نے افغانستان میں مساجد کے خطیب اور اماموں کو ہدایت جاری کی ہیں کہ وہ افغان عوام پر ملک چھوڑ کر نہ جانے پر زور دیں ۔ اور اب اسکی فلاح و بہتری کیلئے کام سرانجام دیں ۔
طالبان نے اماموں پر زور دیا کہ وہ عوام پر اسلامی نظام اور قومی اتحاد کی تشکیل پر زور دیں ۔
پہلے کابل ایئرپورٹ کے باہربیرون ملک جانے کے منتظر افغانوں کا ہجوم جمع ہوگیا تھا تاہم طالبان نے ان پر زور دیا تھا کہ وہ کسی کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے ۔
ملک بھر میں طالبان کی پیش قدمی اور اتوار کو کابل میں داخلے کے بعد تاحال پورے میں امن ہے لیکن ایئرپورٹ پر افراتفری پائی جاتی ہے کیونکہ کابل سے باہر جانے کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد وہاں پر جمع تھی۔
ادھر امریکا اور دیگر مغربی قوتوں نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں سے انخلا پر زور دیا ہے۔
ایک مغربی سیکیورٹی اہلکار نے بتایا ہے کہ اتوار سے اب تک آٹھ ہزار افراد یہاں سے پرواز کرچکے ہیں جبکہ امریکی فوج اس ایئرپورٹ کی نگرانی کررہی ہے۔ جبکہ طالبان جنگجو ایئرپورٹ کی باڑ کے باہر پیٹرولنگ کررہے ہیں ۔
عینی شاہد کے مطابق بدھ کے روز طالبان جنگجووں نے لوگوں کو ایئرپورٹ کے اندر جانیکی اجازت نہیں دی تھی۔ ایک شخص نے اس حوالے سے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ کے باہر طالبان ہوائی فائرنگ کررہے ہیں اور لوگوں کو اے کے 47 اسلحے سے تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔
تاہم طالبان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ ہوائی فائرنگ اس لئے کی تھی تاکہ ہجوم کو منتشر کیا جاسکے ۔