طالبان کی مبینہ قندھارگورنر ہاوس میں داخلے کی ویڈیوز ۔ ۔ ۔جنگجووں کا جشن ۔ ۔ ۔ ؟
ٹوئٹر پر کچھ ویڈیوز شیئر کی جارہی ہیں اور دعویٰ کیاجارہاہے کہ طالبان قندھار کے گورنر ہاوس میں داخل ہوگئے ہیں اور اس پر بھی انہوں نے قبضہ کرلیا ہے۔
ٹوئٹر پر کچھ ویڈیو وائرل ہورہی ہے اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کچھ باریش افراد ایک میز کے گرد بیٹھے ہیں اور وہاں پر کسی اہم میٹنگ کا آغاز ہونے جارہا ہے ۔
کہا جارہا ہے کہ طالبان نے قندھار پر بھی قبضہ کرلیا ہے اور یہ سرکاری عمارتوں میں داخل ہورہے ہیں ۔
اب ٹوئٹر پر کچھ ویڈیوز شیئر کی گئی ہیں اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ طالبان قندھار کے گورنر ہاوس میں موجود ہیں جبکہ ایک اور ویڈیو بھی ٹوئٹر پر شیئر کی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان قندھار کے گورنر ہاوس پر قبضے کے بعد اپنی فتح کا جشن منارہے ہیں ۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ افراد پرتعیش صوفوں اور کچھ قالین پر ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔اور آپس میں خوشگوار موڈ میں باتیں کررہے ہیں ۔
تاہم ابھی آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ آیا یہ ویڈیوز حقیقت میں قندھار کے گورنر ہاوس ہی کی ہیں یا نہیں ہے۔
ادھر امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں طالبان جنگجووں نے تین اہم شہروں کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ان شہروں میں لشکرگاہ ،ہیرات اور قندھار شامل ہیں ۔
گزشتہ روز طالبان نے ایک ہی دن میں ہرات اور غزنی کے شہروں پر قبضہ کر کے ایک ہفتے سے کم عرصے میں افغانستان کے 11 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرلیا۔
بی بی سی کے مطابق غزنی جیسے اہم شہر پر قبضہ کرنے کے بعد اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ طالبان کابل پر بھی قبضہ کرلیں.افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار میں بھی شدید لڑائی جاری تھی۔.
افغانستان کے علاقائی شہروں کا ایک تہائی حصہ طالبان کے قبضے میں ہے۔.
غزنی شہر پر قبضہ ہونا اپنے محلِ وقوع کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہے. شہر سے کابل قندھار موٹروے گزرتا ہے جو افغانستان کے جنوبی حصے جو طالبان کا گڑھ ہیں کو کابل سے جوڑتا ہے۔.
اطلاعات کے مطابق افغانستان کے جنوبی شہر لشکر گاہ سے قیدیوں کو چھُڑایا گیا تھا جہاں طالبان نے پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضہ کیا تھا۔.