اپ ڈیٹ 13 اگست 2021 07:17pm

'میگاکرپشن مقدمات پر بریفنگ'

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے نیب لاہور کا دوسرے روز بھی دورہ کیا ہے، دورے کے دوران ان کو میگا کرپشن مقدمات میں ہونیوالی اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ جسٹس جاوید اقبال کہتے ہیں نیب آئین اور قانون کے مطابق اپنا کام بلا تعطل جاری رکھے گا۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور کی سربراہی میں کمبائینڈ انویسٹی گیشن ٹیموں نے میگا کرپشن کے مقدمات میں ہونیوالی پیش رفت بارے تفصیل سے آگاہ کیا۔

بریفنگ میں شریف فیملی وزیراعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید ، فواد حسن فواد، احد چیمہ، سابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، سابق ایم این اے رانا ثناء اللہ کیخلاف جاری انویسٹی گیشن، مقدمات اور ریفرنس بارے پیش رفت سے چیئرمین کو آگاہ کیا گیا اور اہم فیصلے لئے گئے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے 4سالوں میں 890 ارب روپے کرپٹ عناصر سے برآمد کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے۔

پہلے بھی چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے نیب لاہور کا دورہ کیا تھا ۔ اور گرینڈ ایونیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے 1434متاثرین میں 73کروڑ مالیت کے چیک تقسیم کیے تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب لاہور نے مجموعی کارکردگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔15ماہ کے قلیل عرصہ میں 2ارب26کروڑ کی پلی بارگین کسی کارنامہ سے کم نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب لاہور4سالوں میں اربوں روپے تقسیم کر چکا ہے جو قابلِ ستائش ہے۔ پلی بارگین پر اکثر تنقید کی جاتی ہے جبکہ یہ آئین و قانون کے دائرہ اختیار میں کی جاتی ہے۔

چیئرمین نیب نے مزید کہا جہاں نیب متاثرین کو رقم نہیں دے رہا وہاں انہیں پلاٹ و مکانات دلوا رہا ہے۔ نیب نے کبھی کسی پارلیمنٹیرین کی تنقید کا کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ پاکستان بنانے والے بھی سیاستدان تھے اور بچانے والے بھی سیاستدان ہی ہیں۔

Read Comments