ان کیمرہ بریفنگ ، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی طرف سے حامد میر کے پروگرام کا تذکرہ
سینئر صحافی روف کلاسرا نے وی لاگ کیا ہے ، وی لاگ میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی حکام کی جانب سے اعلیٰ سطح کی ان کیمرہ بریفنگ دی گئی ہے۔ بریفنگ میں بات چیت بھی ہوئی اور سوال و جواب بھی ہوئے۔ بریفنگ میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ بھی موجود تھے۔
وی لاگ میں روف کلاسرا نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ بریفنگ افغانستان سے متعلق تھی تاہم اس میں مقامی معاملات بھی زیر بحث آئے ہیں ۔
بریفنگ میں افغانستان سے متعلق حکام نے اپنا مطمع نظر سمجھانے کی کوشش کی ، اور اس میں ملکی میڈیا پر دباو کا بھی تذکرہ ہوا ، بریفنگ کے دوران امید کا اظہار کیا گیا کہ اس وقت ملک کو مسائل سے نکلنے کیلئے میڈیا اپنا بیانیہ درست کرے۔
اپنے وی لاگ میں سینئر صحافی روف کلاسرا نے اپنے ذرائع سے متعلق دعویٰ کیا کہ بریفنگ کے دوران جنرل قمر باجوہ نے تردید کی کہ فوج نے حامد میر کا کالم بند کروایا ہے یا پھر فوج نے حامد میر کا پروگرام بھی بند کروایا ہے۔
انہوں نے بریفنگ کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا کہ حامد میر کے پروگرام یا کالم کی بندش سےمتعلق کوئی میڈیا گروپ میں سے تصدیق کرسکتا ہے کہ ہم نے یہ دباو ڈالا ہے، انہوں نے حامد میر کا شو یا پھر کالم رکوانے سے متعلق سخت اسٹینڈ لیا ۔
اپنے وی لاگ میں ریٹائرڈ جنرل اعجاز اعوان کا بھی تذکرہ کیا اور بتایا کہ اعجاز اعوان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کیوں آرمی چیف جنرل باجوہ نے حامد میر کی جانب سے فوج پر تنقید کرنے پر ردعمل دیا ؟
وی لاگ میں روف کلاسرا نے مزید بتایا کہ بریفنگ کے دوران اعجاز اعوان نے اپنے پاس آنیوالے ریٹائرڈ کمانڈوز کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ یہ کمانڈوز میرے پاس آئے تھے کہ ہم حامد میر کو سبق سکھاتے ہیں لیکن انہوں نے ان کمانڈوز کو کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا ۔
وی لاگ میں سینئر صحافی روف کلاسرا نے بتایا کہ بریفنگ میں ریٹائرڈ دفتر خارجہ کے افسران، فوجی حکام ، سینئر صحافی ، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت دیگر اہم افسران بھی موجود تھے۔
پہلے سینئر صحافی حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا پروگرام پاکستان کے طاقت ور ادارے کی جانب سے دباو کی وجہ سے بند کیا گیا ہے اور انکے کالم بھی اخبار میں نہیں چھاپے جارہے۔
حال ہی میں بی بی سی کو حامد میر نے اپنا ایک انٹرویو دیا ہے اور انٹرویو میں بھی انہوں نے اپنے اوپر پابندیوں کا تذکرہ کیا اور خود کو پاکستان میں سنسرشپ کی زندہ مثال قرار دیا تھا۔
انٹرویو میں سینئر صحافی حامد میر کہتے ہیں پاکستان میں جمہوریت ہے لیکن کوئی جمہوریت نہیں۔ آئین ہے لیکن کوئی آئین نہیں۔ میں پاکستان میں سینسرشپ کی زندہ مثال ہوں۔
حامد میر کا بی بی سی کو انٹرویو ۔ ۔ ۔
سینئرصحافی حامد میر نے بی بی سی کے مشہور زمانہ پروگرام ہارڈ ٹاک ود اسٹیفن سکر کو انٹرویو دیا۔ جس میں انہوں نے سینسرشپ اور نئے میڈیا قوانین کے متعلق کھل کر بات کی۔
9 اگست 2021 کو ریلیز ہونے والی قسط میں میزبان اسٹیفن سکر اور حامد میر کے درمیان سوال و جواب کی تفصیلات ملاحظہ ہوں:
میزبان: کیا پاکستانی ریاست آزاد صحافت کو خاموش کرانے پر تُلی ہوئی ہے؟ آپ کا شو ابھی بھی بند ہے، کیوں؟
حامد میر: ٹی وی پر مجھ پر پابندی ہے اور میں اخبار میں اپنا کالم بھی نہیں لکھ سکتا۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ جب پرویز مشرف اقتدار میں تھے، انہوں نے صرف مجھ پر ٹی وی پر پابندی لگائی تھی، انہوں نے میرے اخبار میں لکھنے پر کبھی پابندی نہیں لگائی۔ اب عمران خان وزیر اعظم پاکستان ہیں اور بدقسمتی سے مجھ پر نہ صرف ٹی وی پر پابندی ہے بلکہ میرے اخبار کے کالم پر بھی پابندی ہے۔پاکستان میں جمہوریت ہے لیکن جمہوریت نہیں ہے۔ آئین ہے پر آئین نہیں ہے۔ اور میں پاکستان میں سینسرشپ کی زندہ مثال ہوں۔
میزبان: آپ کی معطلی اس دھواں دار تقریر کے نتیجے میں ہوئی جو مئی کے آخر میں آپ نے نیشنل پریس کلب میں جب آپ نے ان طاقتوں کےحوالےسےبات کی جو پاکستان میں صحافیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کچھ دن قبل ایک صحافی پر اس کے گھر میں حملہ کیا گیا۔ اُن طاقتوں سے آپ کا کیا مطلب تھا اور ان کو صحافیوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کا کیا مطلب تھا؟
حامد میر: میں پاکستان میں کئی قاتلانہ حملوں میں بچ نکلا اورمجھےکبھی انصاف نہیں ملا۔مجھ پر جھوٹے مقدمے تھوپنے کی کوشش کی گئی اور عدالتوں نے مجھے بےگناہ قرار دیا۔ مجھے بار بار دھمکایا گیا جب ہمارے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اُس ہی دن 28 مئی کو جب میں نے تقریر کی آپ کے شو میں گفتگو کی تو انہوں نے کہا کچھ صحافی ہیں جو پاکستان سے باہر پناہ حاصل کرنے کےلئے ڈرامہ رچاتے ہیں۔ اور میں اپنے صحافی برادر کے ساتھ کھڑا تھا جس پر اس کے گھر میں حملہ ہوا تھا۔ وہ ایک نوجوان صحافی ہے اور میں اس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کررہا تھا۔ تو میں نے کہا جب پاکستان میں ایک صحافی پر حملہ ہوتا ہے تو کوئی انصاف نہیں ہوتا اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرمان کی نشاندہی میں ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں۔تو اگر آپ ہمیں انصاف فراہم نہیں کریں گےپھر ہم وہ نام لینے پر مجبور ہوں گے جن کو ہم قصوروار سمجھتے ہیں اور۔۔۔۔
میزبان: اس کا کیا مطلب ہے کہ آپ نام لیں گے؟ آپ کو کیسے معلوم ہوسکتا ہے کہ اسد طور پر کس نے حملہ کیااور ماضی میں آپ کو کیسے علم کیوں کسی کو بھی انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا؟
حامد میر: میرے معاملے میں،جب میں کراچی میں ایک قاتلانہ حملے میں بچا، مجھے چھ گولیاں ماری گئیں جن میں سے دو ابھی بھی میرے جسم میں ہیں۔ میں نے ایک شخص کا نام لیا، انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کا، پھر نواز شریف کی حکومت نے سپریم کورٹ کے تین سینئر ججز پر مشتمل تین رکنی تفتیشی کمیشن بنایا جس میں اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان شامل تھے۔اور میں نے اس کمیشن کے سامنے اپنا بیان دیا، ایک بار نہیں دوبار۔ میں زخمی تھا لیکن میں پیش ہوا۔میں نے بیان دیا۔اور جب کمیشن نے اس شخص کوبلایاجو میری نظر میں اس حملےیا میرے خلاف سازش بنُنے کا ذمہ دار تھا، اُس نے پیش ہونے سے انکار کردیا اور کبھی پیش نہیں ہوا اور کوئی رپورٹ نہیں آئی۔ یہی معاملہ اسد طور کے ساتھ تھا۔ انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ پولیس ایف آئی آر کاٹی۔ ایف آئی آر میں ایک انٹیلی جنس ایجنسی کا نام دیا گیااور ہم نے یہ مطالبہ کیا کہ اسد طور کو انصاف دیا جانا چاہیئے۔
میزبان: کیا آپ کا جھگڑا یہ ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس سروسز اسد طور پر حملے کی ذمہ دار ہیں، جو انہوں نے بیان کیا، یا یہ کہ گزشتہ ایک یا اس سے زیادہ برس کے عرصے میں جو ہم نےصحافیوں حملے بڑھتے ہیں دیکھے ہیں ان کی پشت پر پاکستانی ریاست موجود ہیں؟
حامد میر: یہ چیزیں بارہا بین الاقوامی میڈیا تنظیموں، پاکستانی میڈیا تنظیموں اور حقوقِ انسانی کمیشن پاکستان کی جانب سے چھاپی جاچکی ہیں۔ ہمارے پاس مختلف رپورٹس ہیں۔ یہ دستاویزی حقائق ہیں اور صحافیوں کے اغواء یا ان پر حملوں کا الزام بار بار ریاستی ایجنسیوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر لگایا جاتا ہے۔
میزبان: وزیر اطلاعت فواد چوہدری نے کہا تھا براہ مہربانی کسی نتیجےپر نہ پہنچیں۔ طور صاحب کا معاملہ پیچیدہ ہے اور اس کی باقاعدہ تفتیش کی جائے گی اور انصاف دیا جائے گا۔ ان کے مطابق آپ اُچک کر نتیجوں تک پہنچ رہے ہیں۔
حامد میر: انہوں نے یہ بیان آپ کے شو میں دو مہینے پہلے دیا تھا۔ کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ دو مہینے گزرچکے ہیں تو انصاف کہاں ہے؟ یہی مسئلہ ہے، یہی سوال ہے۔ پھر انہوں نے کہا صحافی پاکستان سے باہر پناہ کےلئے پاکستان میں ڈرامہ رچاتے ہیں۔ اسد طور یا میں نے کبھی پناہ کی کوشش نہیں کی۔ہمیں امیگریشن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تو کہاں ہے انصاف؟ یہ ہے مسئلہ۔ پاکستان کی ریاست ہمیں انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔