عمران فاروق قتل کیس،جرح کا موقعہ ہی نہیں ملا،مجرم کے وکیل کا دعویٰ
عمران فاروق قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم کے وکیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا ہے کہ انہیں ٹرائل کے دوران جرح کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔واقعہ میں استعمال چھری برآمد ہوئی، مگر نہ کوئی عینی شاہد ہے اور نہ ہی سی سی ٹی وی فوٹیج۔
عدالت نے ریمارکس دیئے برطانوی یا پاکستانی تفتیشی اداروں کو الہام تو نہیں ہوا ہوگا کہ محسن علی نامی شخص نے قتل کیا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بنچ نے عمران فاروق قتل کیس میں سزا یافتہ تین مجرموں کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔
محسن علی کے وکیل نے کہا کہ ان کا موکل برطانیہ پڑھنے گیا تھا جو کالج میں انرولڈ تھا۔ 19 ستمبر 2010 کو کراچی ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ ریکارڈ پر جو گرفتاری کی تاریخ ہے وہ 5 دسمبر 2015 ہے۔
عدالت نے پوچھا پراسیکیوشن کے مطابق آپ پر الزام ہے کہ آپ نے چاقوسے قتل کیا ؟ قتل میں استعمال چاقو ، سی سی ٹی وی فوٹیج یا کوئی عینی شاہد ہے؟ اس کیس میں محسن علی پر مقدمہ کیسے درج ہوا؟ برطانوی یا پاکستانی تفتیشی اداروں کو الہام تو نہیں ہوا ہوگا کہ محسن علی نامی شخص نے قتل کیا۔
وکیل نے بتایا کہ مقتول عمران فاروق کے لندن میں پڑوسی کی ڈسکرپشن پر محسن علی کو گرفتار کیا گیا۔
محسن علی کے وکیل کے دلائل جاری تھے کہ سماعت 23 اگست تک ملتوی کر دی گئی ۔