سندھ کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ
سندھ کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت تین وزرا کو فارغ کیا جارہا ہے جبکہ ناصر شاہ اور سعید غنی سے بھی ایک ایک وزارت کا قلمدان واپس لے لیا جائے گا۔
چار نئے وزرا کی تقریب حلف برداری جلد گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔
سندھ کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ سہیل انور سیال، نثار کھوڑو،ہری رام کو فارغ کیے جانے کا امکان ہے۔
ناصر شاہ سےاطلاعات،سعیدغنی سےتعلیم کامحکمہ واپس لینےکافیصلہ کرلیا گیا ہے،ذرائع کے مطابق سردارشاہ کودوبارہ وزیرتعلیم اورسعیدغنی کووزیراطلاعات بنانے پرغور کیا گیا ہے جبکہ اسماعیل راہو سےزراعت ،تیمورتالپورسےآئی ٹی کاقلمدان واپس لینےکافیصلہ کیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ میں جام خان شورو،گیان چند،ضیاعباس کوصوبائی وزیر بںائےجانےکاامکان ہے۔ جام اکرام دھاریجو سےاینٹی کرپشن کا قلمدان واپس لینےکا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ میں معاون خصوصی بنگل خان مہر کو اینٹی کرپشن کا قلمدان ، اسماعیل راہو کو یونیورسٹیزاینڈبورڈزاورماحولیات کاقلمدان ، مکیش کمارکووزیرخوراک اورگیان چندکواقلیتی امور کا قلمدان ، تیمور تالپور کو وزیر جنگلات ، تنزیلہ قمبرانی کو وزیراعلی کا معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالاجی بنایاجائےگا۔
وزیراعلی کے پانچ معاونین خصوصی تعنیات کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ شیرازی ,رسول بخش چانڈیو,ارباب لطف اللہ کو وزیراعلی کا معاون خصوصی بنایاجائےگا۔
ساجد جوکھیو کو صوبائی وزیر سماجی بہبود بنائےجانے کا امکان ہے جبکہ لیاقت آسکانی، ایاز مہر کو بھی سندھ کابینہ میں نمائندگی دی جاےگی۔