شائع 17 جولائ 2021 12:09am

چیف جسٹس عدالت عالیہ جسٹس جمال مندوخیل کی خدمات پر خراج تحسین

چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جمال مندوخیل کی عدالت عظمیٰ تعیناتی پر فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے جج صاحبان اور سینئیر وکلا نےبطور چیف جسٹس عدالت عالیہ جسٹس جمال مندوخیل کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا ۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل کی قانون کی عملداری اور آئین کی بالادستی کیلئے خدمات کبھی فراموش نہیں کی جاسکیں گی ۔ جسٹس مندوخیل کے تاریخی فیصلوں کے اثرات مستقبل میں محسوس کئے جائیں گے ۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جمال مندوخیل کی عدالت عظمیٰ تقرری پر عدالت عالیہ میں فل کورٹ ریفرنس کا ہوا ۔

ریفرنس سے پاکستان بار کاؤنسل ، سپریم کورٹ بار ، بلوچستان ہائی کورٹ بار اور کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال مندوخیل کی عدل و انصاف کیلئے خدمات پر خراج تحسین پیش کیا ۔

چیف جسٹس بلوچستان جمال مندوخیل کا الوداعی خطاب میں کہنا تھا کہ قانون کے مطابق فیصلے دینا عدلیہ کا فرض ہے ۔ یقین ہے کہ بار اور بنچ انصاف کی فراہمی کے مشن کو بھرپور طریقہ سے جاری رکھیں گے ۔

انہوں نے سانحہ 8 اگست کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وکلا نے ہمیشہ حق کیلئے آواز بلند کی ہے ۔ بحیثیت جج فیصلوں کا کریڈٹ وکلا کو دیتا ہوں ۔ عدالت اگر سائل کو انصاف نہ دے سکے تو جج کو عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیئے۔

فل کورٹ ریفرنس سے ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس نعیم اختر افغان ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثنا اللہ ابابکی نے بھی خطاب کیا اور معاشرتی انصاف میں بار اور بنچ کے مضبوط تعلق پر زور دیا ۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل تاریخی اور مدبرانہ فیصلوں کی بدولت ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔ جسٹس جمال مندوخیل کی عدالت عظمیٰ تعیناتی کے بعد بلوچستان سے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 2 ہوگئی ہے ۔ جسٹس جمال مندوخیل نے اکتوبر 2019 کو عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کے منصب کا حلف اٹھایا تھا ۔

Read Comments