شائع 07 جون 2021 07:15pm

کراچی: بحریہ ٹاون میں ہنگامہ آرائی، ملزمان عدالت میں پیش

کراچی بحریہ ٹاون میں ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراو کے کیس میں انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ملزمان کو پیش کیا گیا، عدالت نے دو روز کیلئے ملزمان کو پولیس کے حوالے کردیا۔

کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پولیس نے 120 ملزمان کو انسداد دہشتگری عدالت میں پیش کیا، تفتیشی افسر کی جانب سے ملزمان کے ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا ان کی نشاندہی پر مزید ملزموں کو حراست میں لینا ہے، عدالت نے مظاہرین کو دو روز کے لئے پولیس کے حوالے کردیا جبکہ آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

پولیس کے مطابق بحریہ ٹاون میں دہشتگری، ہنگامہ آرائی، جلاؤ گھیراو کی دفعات کے تحت ملزمان کیخلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں، مقدمات سرکاری مدعیت میں درج کیے گئے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم بحال کمیٹی کے سربراہ ڈآکٹر فاروق ستار نے بحریہ ٹاون واقعہ کو کراچی کے شہریوں کی شہریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس حملے کی پہلے سے منصوبہ بندی کی جارہی تھی، حملہ آوروں کو صوبائی حکومت کی مکمل تائید اور سرپرستی حاصل تھی۔

کراچی پریس کلب میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ احتجاج کیلئے قافلوں کی صورت میں لوگوں کو اندرون سندھ سے لایا گیا تھا، انہوں نے سوال کیا کہ حملہ لسانی فسادات کی تیاری تو نہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ اصل کردار حملے کو منظم کرنے والوں کا ہے، مگر وزیر اعلٰی نے رینجرز کو بھی طلب نہیں کیا۔

Read Comments