'پلی بارگین کی منظوری احتساب عدالت دیتی ہے'
چیئرمین نیب نے کہا کہ پلی بارگین کی حتمی منظوری احتساب عدالت دیتی ہے، پلی بارگین میں ملزم جرم کا اعتراف کرنے کےساتھ لوٹی رقوم بھی واپس کرتا ہے۔
چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈجاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں مختلف کیسز کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ایگزیکٹو بورڈنے اجلاس میں کرپشن کیسز پر فیصلے بھی ملتوی کردیئے ہیں۔
ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب نے2020میں 323 جبکہ اپنے قیام سے اب تک 814ارب روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کئے ہیں۔1273ریفرنسز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت1305ارب روپے ہے۔ احتساب عدالتوں میں ریفرنسز کی جلد سماعت کے لئے پٹیشنز دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ قومی احتساب بیورو کی اولین ترجیح ہے اوربدعنوانی کا خاتمہ اورلوٹی ہوئی رقوم کی واپسی کیلئے نیب پرعزم ہے ۔نیب بزنس کمیونٹی کی ملکی ترقی کے لئے خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پلی بارگین کی حتمی منظوری احتساب عدالت دیتی ہے، پلی بارگین میںملزم جرم کا اعتراف کرنے کےساتھ لوٹی رقوم بھی واپس کرتا ہے۔