خیبرپختونخوااسمبلی: صوبائی کابینہ کے ارکان کا معاملہ پھر اٹھادیا گیا
خیبرپختونخوااسمبلی میں صوبائی کابینہ کے ارکان کامعاملہ پھراٹھادیا گیا۔
ایوان میں احمد ترین کنڈی نے کہا کہ کابینہ ارکان کی تعداد زیادہ ہونے کےمعاملے پر جواب نہیں آیا،جس پر اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آبادمیں ہیں،واپس آکر جواب دیں گے،جس پر سردار یوسف نےکہا کہ تین دن سےایڈووکیٹ جنرل نہیں آرہے،کیا چھپایا جارہا ہے۔
خیبرپختونخواکابینہ کےارکان کی تعداد کا تنازعے کا معاملہ خیبرپختونخوااسمبلی میں احمدترین کنڈی نےپھراٹھادیا۔
اجلاس میں اسپیکر نے بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آبادمیں ہیں،واپس آکربیان دیں گے۔
رکن اسمبلی سردار یوسف نے کہا کہ 3دن سےایڈووکیٹ جنرل نہیں آسکے،کیاچھپایاجارہاہے۔
اس موقعے پر احمد کنڈی نے کہا کہ کل عدالت سےاحکامات آجائینگےتوہاؤس کی بےتوقیری ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواکابینہ کےفیصلےغیرآئینی ہیں۔
اس موقعے پر شوکت یوسف زئی نے کہا کہ اگراجلاس غیرآئینی ہےتوملتوی کر دیں۔