سندھ ہائی کورٹ: لاپتہ افراد کیس سے متعلق تحریری حکم نامہ
سندھ ہائی کورٹ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
سندھ ہائی کورٹ کے جاری کیئے گئے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل پاکستان اور وفاقی سیکریٹری داخلہ عدالت میں پیش ہوئے،عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر اٹارنی جنرل کی وفاقی سیکریٹری داخلہ کی طرف سے معذرت کرلی۔
اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت لاپتا افراد کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے،مستقبل میں جبری گمشدگی کے معاملے پر قانون سازی بھی کی جارہی ہے۔
عدالت کا کہناہے کہ وفاقی سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے بھی عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر معذرت کرلی، سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کاکہنا تھا کہ عدلیہ کا مکمل احترام کرتا ہوں،پتہ لگانے میں متحرک ہوں کہ آیا کراچی سے لاپتا افراد کے پی کے حراستی مراکز میں ہیں یا نہیں، تحریری حکم میں عدالت کاکہنا ہے کہ وفاقی سیکریٹری داخلہ کی جانب سے کے پی کے حراستی میں قید سندھ کے افراد کی فہرست پیش کردی۔
سیکریٹری داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کے پی کے حراستی مراکز میں سندھ کے تین شہری قید ہیں،کے پی کے حراستی مراکز میں قید افراد میں فہد علی،عبدالروف اور رحمت علی شامل ہیں،عدالت نے تینوں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹادی ۔
عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کی جانب سے شوکاز نوٹس کا جواب تسلی بخش قرار دیا ، ڈائریکٹر ہیومن رائٹس آئند ہیومنٹرین افئیرز منسٹری آف فارن افئیرز کی جانب سے پیش ہوئےڈائریکٹر ہیومن رائٹس کی جانب سے جبری گمشدگی سے متعلق یو این ورکنگ گروپ کو دی گئی فہرست پیش کردی،چئیرمین پرسن نیشنل آف ہیومن رائٹس کی تعیناتی کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے ،عدالت نے مزید سماعت 28 اگست تک ملتوی کردی۔