شائع 25 مئ 2021 07:18pm

کورکمانڈرز کانفرنس ، ایل او سی اور علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر غور

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کورکمانڈرز کانفرنس، عالمی، علاقائی اورمقامی سیکیورٹی صورتحال بشمول لائن آف کنٹرول ، ورکنگ باؤنڈری اورپاک افغان بارڈرکی صورتحال پر غورکیا گیا ۔

کورکمانڈرز نے ملک کو درپیش چیلنجزسے نمٹنے کی حکمت عملی اور آپریشنل تیاریوں پر مکمل اظہار اطمینان کیا گیا ہے ۔ افغانستان سے کراس بارڈر فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سختی سے نوٹس لیا، اور زور دیا کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکے ۔

جی ایچ کیو راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت کورکمانڈرزکانفرنس ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کورکمانڈرز کانفرنس میں عالمی، علاقائی اور مقامی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ لائن آف کنٹرول، ورکنگ باؤنڈری اورپاک افغان بارڈرکی صورتحال بھی زیرغور آئی۔

اجلاس میں ملک کو درپیش چیلنجزسے نمٹنے کی حکمت عملی اور آپریشنل تیاریوں پربھی غورکیا گیا، آرمی چیف نے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پرمکمل اطمینان کا اظہارکیا، آئی ایس پی آرکے مطابق افغان امن عمل میں پیشرفت اور اس کے پاک افغان سکیورٹی پر اثرات پر بھی غور کیا گیا، جبکہ کانفرنس کے شرکاء نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کیلئے مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

کانفرنس کے دوران افغانستان سے کراس بارڈرفائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سختی سے نوٹس لیا گیا، شرکاء کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشتگرد گروپ دوبارہ سے سر اٹھا رہے ہیں اور افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کررہے ہیں، پاکستان نے علاقائی سیکیورٹی صورتحال میں مؤثر بارڈر کنٹرول منیجمنٹ ہی ہے، اور بارڈر کنٹرول کیلئے مؤثراقدامات کر رکھے ہیں، افغانستان بھی بہتر منیجمنٹ کیلئے ضروری اقدامات کرے، اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، کے پی میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ سماجی و اقتصادی ترقی سے امن کے فروغ کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی، آرمی چیف نے کورونا کی تیسری لہرکے دوران سول انتظامیہ کی بھرپورمدد پرفارمیشنزکے کردارکوسراہا اورکہا کہ ان اقدامات سے وباء کے پھیلاؤ کے روک تھام میں مدد ملی ۔

Read Comments