فلسطین ،کشمیر اور افغانستان پر مشترکہ حکمت عملی پر زور
جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر، فلسطین اور افغانستان پرحکومت مشترکہ اورمتفقہ حکمت عملی کا اعلان کرے،وزیر اعظم عمران خان پر بڑی ذمہ داری ہے،وہ قومی سیاست میں ڈائیلاگ کا راستہ اپنائیں،اپوزیشن نان ایشوز پر لڑنے کی بجائے فلسطین کے مسئلے پرمتحدہ کردارادا کرے ۔ اب مسلم ممالک کی افواج کے سربراہان کو نوشتہ دیوار پڑھنا ہوگا، 21 مئی کوپورے ملک میں یکجہتی فلسطین مارچ کئے جائیں گے ۔
اسلام اباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ 21 مئی کو امیر جماعت اسلامی سراج الحق اسلام آباد میں القدس ملین مارچ کی قیادت کریں گے۔
ان کاکہنا تھا کہ 23 مئی کو کراچی اور پھر پشاور میں القدس مارچ کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ انسانیت سوز مظالم روکنے کی بجائے اسرائیل کی ننگی حمایت کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے پوری مسلم دنیا میں رسوا ہو رہا ہے ،،مسلم ممالک اپنی بزدلی، نالائقی اور نااہلی کہ وجہ سے ناکام ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ فلسطین کا مسئلہ جس نہج پر پہنچ گیا ہے اس کیلیے ضروری ہے عالم اسلام متفقہ فیصلہ کرے۔جن مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا وہ فی الفور دستبرداری کا اعلان کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم ممالک اپنے اپنے افواج کے سربراہان سے فلسطین کے ایشو پر مشترکہ لائحہ عمل طے کریں۔ عالمی انسانی حقوق کے ادارے بھی فلسطین میں ہونے والے مظالم پر اپنی چپ کو توڑ کر سامنے آئیں،سیکیورٹی کونسل فلسطینی عوام کو انصاف دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے،استعماری طاقتیں ایک ایک کر کے مسلم ممالک کے عبرت کا نشان بنا رہی ہیں،تمام اسلامی ممالک کے حکمران اپنی افواج کے ساتھ مشترکہ بنیاد پرمسئلہ فلسطین پر لائحہ عمل کا اعلان کریں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کیلئے کشمیر شہ رگ اور عالم اسلام کیلئے فلسطین رگ جان ہے،کشمیر، افغانستان اور فلسطین پرقومی رہنما متفقہ اور مشترکہ کردار ادا کریں ۔