شائع 11 مئ 2021 07:38pm

سندھ: سرکاری ملازمین کے ریکارڈ کیلئے نیب کا خط غیر قانونی

سندھ کابینہ نے سرکاری ملازمین کا ریکارڈ طلب کرنے کیلئے نیب کے خط کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

کابینہ کی خط کے حوالے سے چیرمین نیب کو تحقیقات کی ہدایت بھی کی گئی، کابینہ کے کراچی میں 41 نالوں کی صفائی کییلئے 50 کروڑ روپے گرانٹ کی منظوری دے دی۔

وزیر اعلٰی سندھ نے نالوں کی صفائی کی نگرانی کیلئے کمیٹی بھی قائم کردی، 25 کروڑ روپے فوری جاری کرنے کا ہدایت بھی کردی گئی، کابینہ نے تعلیمی اداروں میں بچوں کو تشدد اور جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کے خلاف رولز کی منظوری دے دی جبکہ محکمہ بلدیات نے کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے اور ریکسینیشن کے قوانین بھی کابینہ اجلاس میں پیش کردیا ہے۔

وزیر اعلٰی سندھ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں نیب کے خط پر غور کای گیا، نیب نے گریڈ ایک سے گریڈ 22 تک کے افسران کے ڈومیسائل سطح پر تفصیلات مانگی تھیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کے خط پر نیب نے یہ خط لکھا، شہزاد اکبر کا نیب کوخط سیاسی مقاصد کو متحرک کرنے کی کوشش تھی، نیب نے غیر قانونی خط لکھا، یہ نیب کہ دائرہ اختیار میں نہیں آتا، سندھ کابینہ نے اس قسم کے خط کی مذمت کی،

کابینہ نے اس قسم کے خط لکھنے پر چیئرمین نیب کو تحقیقات کرنے کی ہدایت دے دی نیب کو خط کے جواب میں کوئی اطلاع نہیں دی جائے گی۔

نیب کے خط کی زبان غصہ دلانے والی تھی، کابینہ نے پانچ کروڑ روپے مالیت کی دو نقش کار مشنیوں کی خریداری کی منظوری دی گئی۔ ایک مشین فرانزک سائس لیباریٹری کراچی اور دوسری لاڑکانہ کیلئے خریدے جائے گی۔

کابینہ نے دہشتگردی کی مقدمات میں سزایافتہ 2 ملزمان عبدالرحمان اور عارف قسمانی کو خرابی صحت کے باعث گھروں پر منتقل کرنے کی بھی منظوری دی، 78 سالہ عارف اور 55 سالہ عبدالرحمان کے گھروں کو سب جیل قرار دیا جائے گا۔

وزیر اعلٰی سندھ نے نالوں کی صفائی کیلئے میونسپل کمشنرکے ایم سی اور ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ اتھارٹی پر نگراں کمیٹی تشکیل دی، وزیر بلدیات نالوں کی صفائی کے کام کی مانیٹرنگ کرینگے جبکہ کمیٹی حکومت کو رپورٹ کرے گی، کابینہ نے منیمم ویج بورڈ کیلئے کاٹی کی سفارش پر سلیم الزمان کی بھرتی کی بھی منظوری دے دی جبکہ میسز کانٹینیٹل بسکٹ کی جانب سے سرمایہ کاری میں توسیع کیلئے نجی زمین صنعتی پلاٹ می ضم کرنے کی درخواست منظور کرلی۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن نے تعلیمی اداروں میں بچوں کی سزا دینے کو جرم قرار دینے اور جنسی استحصال کے خلاف قانون کا مسودہ کابینہ اجلاس میں پیش کیا۔

سندھ پروہیبیشن آف کارپورل پنشمنٹ ایکٹ 2016 کے کا اطلاق مدارس پر بھی ہوگا، قانون کے تحت تعلیمی اداروں میں سربراہ اور والدین کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے گی، جو شکایات کا جائزہ لے کر کیسز پولیس کو ارسال کرے گی، اسکے علاوہ محکمہ اسکول ایجوکیشن میں سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی بھی قائم کی جائے گی جسمیں آن لائن شکایات وصول کی جائیں گی۔

Read Comments