شائع 16 مارچ 2021 08:23pm

پی ڈی ایم میں حکمت عملی پر اختلاف

لیگی رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ 164 لوگ استعفے دیں تو قومی اسمبلی کے رہنے کا جواز ختم ہوجاتا ہے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ پی ڈی ایم میں حکمت عملی کا اختلاف ہے۔

خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ہمارے موقف کے ساتھ دیگر جماعتیں بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اپنا رائے دی رہی ہے، استعفے دیکر ضمنی انتخابات لڑنا غیرمنطقی ہے۔

خرم دستگیر نے مزید کہا کہ ہمیں یہ عجلت نہیں کہ سب پارٹیاں آج ہی استعفی دےد یں۔

خرم دستگیر نے مزید کہا کہ کوشش ہے کہ لانگ مارچ اور استعفے ساتھ ساتھ ہوں۔

دوسری جانب پی ڈی ایم کا سربراہی میں آصف علی زرداری نے نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر لڑنا ہے تو پھر سب کو جیل جانا پڑے گا۔ نواز شریف اگر جنگ کے لئے تیار ہیں تو لانگ مارچ ہو یا عدم اعتماد کا معاملہ، انہیں وطن واپس آنا ہوگا، آصف زرداری نے سوال کیا کے میاں صاحب۔ آپ کیسے عوامی مسائل حل کریں گے آپ نے تو اپنے دور میں تنخواہوں تک میں اضافہ نہیں کیا۔

پی ڈی ایم اجلاس سے خطاب میں آصف زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب! پلیز پاکستان آئیں۔

آصف زرادری کا کہنا تھا کہ لڑنا ہے تو سب کو جیل جانا پڑے گا، انہوں نے سوال اٹھایا کہ میاں صاحب، آپ کیسے عوامی مسائل حل کریں گے؟ آپ نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ کیا، میاں صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں، یہ پہلی بار نہیں کہ جمہوری قوتوں نے دھاندلی کا سامنا کیا۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ لڑنا ہے تو سب کو جیل جانا پڑے گا، مجھے اسٹبلشمنٹ کا کوئی ڈر نہیں، میں جنگ کے لئے تیار ہوں مگر شاید میرا ڈومیسائل مختلف ہے،

پی پی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ میاں صاحب آپ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں، ہم پہاڑوں پر سے نہیں بلکہ پارلیمان میں رہ کر لڑتے ہیں

اجلاس میں مریم نواز نے آصف علی زرداری کو جواب دیا کہ وہ اپنی مرضی سے یہاں ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ جیسے آپ ویڈیو لنک پر ہیں ویسے ہی میاں صاحب بھی ویڈیو لنک پر ہیں، نیب کی تحویل میں میاں صاحب کی زندگی کو خطرہ ہے، میرے والد کو جیل میں دو ہارٹ اٹیک ہوئے ہیں۔

Read Comments