اراکین کی ویڈیو لیک معاملہ، جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ
پیپلز پارٹی نے اراکین اسمبلی کی خریدو فروخت سے متعلق سامنے آنے والی ویڈیو کو حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو دباو میں لینے کی کوشش قرار دیا دیتے ہوئے اسکی جوڈیشنل انکوائری مطالبہ کیا ہے، فیصل کریم کنڈی سوال کی ہے کہ کہ کے پی کے وزیر قانون سے تو استعفٰی لے لیا گیا، پرویز خٹک اور اسد قیصر سے کب استعفٰی لینگے۔
محکمہ آرکائیو سندھ کے دفتر میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ عمران خان خود کہ چکے ہیں اس ویڈو کا ان کو تین سال سے پتہ ہے۔
عمران خان نے کہا کہ یہ ویڈیو میرے پاس 3 سال سے ہے، اسکے باوجود اس شخص کو وزیر بنایا گیا ہے، جب لامنسٹر سے استعفی لیا ہے اسی طرح پرویز خٹک اور اسد قیصر سے بھی استعفی لیں،ان دونوں پر بھی تحریک انصاف کے ایم پی اے نے الزام لگایا ہے، اس ویڈیو کا مقصد سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنا ہے، پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک خود پرویز خٹک کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اراکین کی خرید و فروخت بند کرنے کیلئے پارٹیز کے کوئٹے کے مطابق اکثر سینیٹرز بلامقابلہ منتخب کرائے گئے تھے۔
انکا کہنا تھا کہ ملک آئین کے مطابق چلتا ہے پی ٹی آئی کو شکست کا ڈر ہے اسلئے وہ صرف سینیٹرز کے انتخآبات کیلئے شو آف ہینڈز چاہتے ہیں۔ سینیٹر کے انتخاب کیلئے شو آف ہینڈز کا مطالبہ کرنے والے اسپیکر اور چیرمین کیلئے کیوں شو آف ہینڈز کی بات کیوں نہیں کرتے؟ عوام کی رائے کا احترام کرتے ہیں لیکن ملک آئیں کے مطابق چلتا ہے, الیکشن ریفارمز کیلئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے, جو حکومت کشمیر کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتی وہ کیا ترمیم کرے گی, اب تو معاملہ سپریم کورٹ میں ہے لہزا حکومت سپریم کورٹ کو متنازعہ بنارہی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کے خلاف کریک ڈاون اور تشدد کی مزمت کرتے ہوئے گرفتار ملازمین کی فوری رہا، مطالابت کیی منظوری کا بھی مطالبہ کیا۔