ساجد سدپارہ اپنے والد کی زندگی سے مایوس
کے ٹو کی چوٹی سرکرنے والے محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ اپنے والد کی زندگی سے مایوس ہوگئے۔
علی سدپارہ کےبیٹےساجد سدپارہ نے آج نیوزسے گفتگوکرتے ہوئے کہاہم 12 دسمبر2020 کو کے ٹو بیس پر پہنچے تھے۔کے ٹو سرکرنےکی ہماری دوسری کوشش تھی۔8 ہزار 200 کی بلندی پر آکسیجن کی کمی سے مجھے پریشانی ہوئی۔ والد نے آکسیجن کا دوسرا سلینڈر دیا۔میں ماسک فٹ کررہا تھا کہ وہ لیک ہوگیا۔میں اسکے بعد نیچے آگیا۔
ساجد سدپارہ نے کہاآخری بار والد کو 8300 میٹر کی بلندی پر بوٹل نیک چڑھتے دیکھا۔مجھے یقین ہے کہ والد نے کے ٹو سرکرلی ہے۔میں 12 بجے کے قریب بوٹل نیک سے واپس روانہ ہوا۔شام 5 بجے میں بیس کیمپ پہنچ گیا۔میں نے کیمپ کی لائٹ جلا کررکھی کہ روشنی دیکھ کر وہ نیچے آجائیں گے۔
انہوں نےکہاجب والد واپس نہ آئے تو میں نے اوپر جانے کا فیصلہ کیا۔مجھے کہا گیا کہ موسم خراب ہے آپ اوپر نہ جائیں۔اس رات ہوا بھی بہت تیز تھی۔شاید نیچے آتے وقت ٹیم مشکلات کا شکار ہوئی ہے۔اتنی شدید سردی میں اتنی دیر کسی کا رہنا تقریبا ناممکن ہوتاہے۔پوری قوم کی دعاؤں اور تعاون پر شکر گزار ہوں۔