وفاقی کابینہ اجلاس، اندرونی کہانی، اراکین کی حفیظ شیخ پر تنقید
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں اراکین پھٹ پڑے ۔
نور عالم خان نے کہا حفیظ شیخ دو ہزار آٹھ میں بھی یہی باتیں کرتے تھے ۔ ٹیکنوکریٹ چلے جائیں گے اور ذلیل ہم ہوں گے ۔
نزہت پٹھان اور لال ملہی نے کہا کراچی میں پی ٹی آئی گروپس میں بٹ گئی ۔ عمر کوٹ کا ضمنی الیکشن ہوا، کوئی پارٹی عہدیدار نہیں آیا.
وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔تو کسی نے تحفظات کا اظہارکیا تو کسی نے شکوے کیے۔
گفتگو کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے جہانگیر خان ترین کا ذکر ہوا ۔ راجا ریاض بولے جہانگیر ترین کی خدمات فراموش نہیںکی جاسکتیں ۔ سینیٹ ٹکٹ کمیٹی کا سربراہ جہانگیرترین کو بنایا جائے۔
چوہدری سرور اور شاہ محمود قریشی کو کمیٹی میں شامل کیا جائے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے ملکی قرضوں پر بریفنگ دی ۔ بتایا اب تک گیارہ ہزار ارب کا قرض لیا جس میں سے چھ ہزارارب قرض کی واپسی میں چلے گئے۔
جس پر نور عالم خان نے کہا حفیظ شیخ دوہزارآٹھ میں بھی یہی باتیں کرتے تھے ۔ وزیراعظم کے مشیر اور وزیر سبز باغ دکھا رہے ہیں ۔ آٹا، دال چینی عوام کو کچھ بھی نہیں مل رہا ۔ ٹیکنوکریٹ چلے جائیں گے اور ہم ذلیل ہوجائیں گے ۔ تماموزرا کا احتساب ہونا چاہیے۔
اراکین گورنر سندھ،صدر پی ٹی آئی کراچی اور سیف اللہ نیازی پر پھٹ پڑے ۔ نزہت پٹھان اور لال ملہی نے کہا کراچی میں پارٹی ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے، عمر کوٹ کا ضمنی الیکشن ہوا، کوئی پارٹی عہدیدار نہیں آیا ۔ مفادات کا کھیل چل رہا ہے۔
مجید خان نیازی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بیوروکریسی کی حکومت چل رہی ہے۔