شائع 23 دسمبر 2020 01:25pm

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈ: صدر نے ریفرنس پر دستخط کردیئے

صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈ کے ذریعے کرانے کے ریفرنس پر دستخط کر دیئے ہیں۔

صدر نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ ریفرنس بھجوانے کی وزیرِاعظم کی تجویز منظور کرلی ہے۔ صدر نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے سےمتعلق سپریم کورٹ کی رائے مانگی ہے۔

ریفرنس میں آئین میں ترمیم کیے بغیر الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن (6) 122 میں ترمیم کرنے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی گئی ہے۔

صدر مملکت کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ میں ریفرنس جلد دائر کیا جائے گا جس میں کہا گیا ہے کہ سینٹ میں خفیہ بیلیٹنگ سے ارکان کی خرید و فروخت میں کالا دھن استعمال ہوتا ہے، خفیہ ووٹنگ کی وجہ سے سینٹ الیکشن کے بعد شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، سینٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت ہو سکتا ہے، اور اس کے ذریعے سینٹ الیکشن میں شفافیت آئے گی، اہم آئینی نکتے پرسپریم کورٹ رائے دے۔

وفاقی کابینہ پہلے ہی معاملے پر 15 دسمبر کو سپریم کورٹ سےرائےلینے کی منظوری دےچکی ہے۔

حکومت چاہتی ہے کہ سینیٹ کے آئندہ انتخابات شو آف ہینڈ سے کرائے جائیں۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ آئین پاکستان میں اوپن بیلٹ کی بظاہر کوئی ممانعت نہیں ہے۔

سینیٹ کے انتخابات ’’شو آف ہینڈ‘ کے ذریعے فروری 2021 میں کرانے کیلئے حکومت اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لیے شو آف ہینڈ کا طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ وہ شو آف ہینڈ کے خلاف نہیں لیکن جب چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کو ہم نے چیلنج کیا تھا اس وقت حکومت کو شو آف ہینڈ کیوں یاد نہیں آیا اور اب جب اپنی حکومت جاتی نظر آرہی ہے تو شو آف ہینڈ یاد آگیا۔

Read Comments