احسن اقبال پرنارووال اسپورٹس سٹی کیس میں فردجرم عائد
اسلام آباد کی احتساب عدالت نےاحسن اقبال پرنارووال اسپورٹس سٹی کیس میں فرد جرم عائد کردی ہے۔ احسن اقبال کے ساتھ 4 شریک ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کردی گئی جن میں سابق ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ اخترنواز گنجیرا بھی شامل ہیں۔ نیب سے عدالت نے 12 جنوری کو گواہان طلب کر لئے۔
منگل کواحتساب عدالت میں احسن اقبال پرنارروال اسپورٹس سٹی کیس میں فرد جرم عائد کی گئی۔ احتساب عدالت نمبر3 کے جج اصغرعلی نےکیس کی سماعت کی۔
فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ ملزم نےبطور وزیر ذاتی فائدے کے لیے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور بدنیتی سے اسپورٹس سٹی کا اسکوپ بڑھایا۔ ملزم نے صحت جرم سے انکار کردیا۔
اس سےقبل احسن اقبال کی جانب سےاعتراضات اٹھائے گئے تھے کہ عدالت کو دیکھنا چاہئے تھے کہ یہ کیس بنتا بھی ہے یا نہیں، جج صرف پراسیکیوشن کی بات سن کر نہیں بات کیا کرتا ہے لیکن جج کی جانب سے اعتراضات مسترد کئے گئے اور احسن اقبال کو بات کرنے سے روک دیا۔ جج نے ریمارکس دئیے کہ آپ نے کوئی درخواست دائر کرنی تو کریں یا اپنے وکیل کے ذریعے بات کریں۔جج نے ریمارکس دئیے تھے کہ بادی النظر میں یہ کیس بنتا ہے۔
عدالت نےسابق ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ اختر نواز گنجیرا،سرفراز رسول،وزارت منصوبہ بندی کے افسر آصف شیخ اور پرائیوٹ کنٹریکٹر محمد احمد پر بھی فرد جرم عائد کی۔ عدالت نے نیب کو احسن اقبال کے خلاف گواہان پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
احتساب عدالت کےباہراحسن اقبال نے فرد جرم کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میرے خلاف ریفرنس میں ایک سطر بھی مالی بدعنوانی کی نہیں،ریفرنس میں لکھا گیا کہ ملک میں ایسا ایک بھی اور منصوبہ موجود نہیں،اگر10 اور ایسے منصوبے ہوتے پھر تو کہا جا سکتا تھا یہ اضافی خرچہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جھوٹے مقدمات کا مقصد اپوزیشن کی کردار کشی اور وقت ضائع کرنا ہے،ان جھوٹے مقدمات سے دبنے والے نہیں ہیں۔
انھوں نےمزید کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ سے مطالبہ ہے کہ ان مقدمات کی کارروائی براہ راست نشر کرنے کا حکم دیں،یہ وہ احتساب ہے جوبغیر ٹانگوں کے دوڑنے کی کوشش کر رہا ہے،بے بنیاد کیسز بنا کر جج حضرات کا بھی وقت ضائع کررہے ہیں۔