شائع 17 دسمبر 2020 06:56pm

جے یو آئی کی لانگ مارچ کیلئے تیاریاں مکمل

جمعیت علما اسلام کے صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا واسع نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کیلئے تیاریاں مکمل ہیں جمیعت علما اسلام کے صوبائی اسمبلی کے تمام ارکان نے اپنے استعفے اپوزیشن لیڈر کے پاس جمع کرادیئے ہیں سینٹ کے الیکشن قبل از وقت کرانے کا اعلان بھی الیکش کمیش کے معاملات میں مداخلت ہے جسے مسترد کرتے ہیں۔

جے یو آئی کی صوبائی شوری کے اجلاس کے بعد بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ لانگ مارچ کیلئے اپوزیشن کی تیاریاں مکمل ہیں،عدم اعتماد کی مطوبہ اکثریت بلوچستان اسمبلی میں حاصل ہوسکتی ہے لیکن بلوچستان میں یہ عمل نہیں کرینگے اب صرف حکومت کو رخصت کراکے نئے الیکشن کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی عوام کی طاقت پر یقین رکھتی ہے حکومت نے سینٹ کا الیکش قبل از وقت کراکے غیر آئینی اقدام ہے کیونکہ اس وقت الیکشن کمیشن کو بھی حکومت نے یرغمال بنا رکھا ہے حکومت کو اندازہ نہیں کہ الیکشن کرانا ان کا کام نہیں الیکشن کمیشن کا کام نہیں اب استعفوں کے بعد صرف عام الیکشن ہی ہونگے معاملہ عدم اعتمادکی تحریک سے نکل چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی 25 جولائی دو ہزار اٹھارہ سے اب تک حکمرانوں کے خلاف صف آرا ہے ملین مارچ ۔آزادی مارچ کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر پی ڈی ایم بنائی پہلا جلسہ گوجرانوالہ اور آخری جلسہ لاہور میں ہوا ۔حکومت اور انکی سہولت کار اپوزیشن کے جلسے روک نہ سکے ملتان جلسے کے بعد لاہور کا کامیابی سے جلسہ ہوا لاہور جلسے کے بعد پی ڈی ایم نے دوسرا شیڈول ترتیب دیا ہے قلات ژوب اور کوئٹہ ڈویژن کے اضلاع میں ریلیاں اور جلسے ہونگے جے یو آئی کی صوبائی مجلس عاملہ نے اہم فیصلے کئے اور جلسہ جلوس کیلئے کمیٹاں تشکیل دیں ہیں قلات ڈویڑن کے جلسے خضدار میں ہونگے تیرہ جنوری کو لورالائی میں ریلی اور جلسہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو 31 جنوری قائد پی ڈی ایم نے مہلت دے رکھی ہے، لانگ مارچ کیلئے بلوچستان کی تیاریاں مکمل ہیں کوئٹہ میں قبائل کی اراضیات پر قبضے کئے جارہے ہیں کوئٹہ میں قبائل کو اپنی اراضیات پر تعمرات کی اجازت نہیں جے یو آئی قبائل کے ساتھ یکجتی کرتی ہے ترقی کے نام پر بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کیا جارہا ہے وزیر اعظم کا جنوبی اضلاع کیلئے چھ سو ارب کا پیکج کا اعلان ایک سازش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کو حصوں میں تقسیم کرنے کے عمل کو قبول نہیں کرینگے وزیراعظم کے پیکج کو غلامی کا منصوبہ سمھجتے ہیں، گوادر میں باڑ اور جزائر کو وفاق کی ملکیت قرار دینے کو مسترد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے ارکان پارلیمان نے اپنے استعفے قیادت کو جمع کرادیئے ہیں اس موقع پر بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر نے کہا کہ سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے اپنا استعفیٰ جے یو آئی کو استعفیٰ بھجوایا ہے روزاول سے قانون پامال ہورہا ہے اسکے خلاف پی ڈی ایم صف آرا ہے۔

Read Comments