ریٹائرمنٹ کے فیصلے سے متعلق شاہد آفریدی کا محمد عامر کو اہم مشورہ
کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسٹار آل راؤنڈر بوم بوم شاہد خان آفریدی کا کہنا عامر کا ریٹائرمنٹ سے متعلق فیصلہ میرے لئے کافی حیران کن رہا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ زندگی میں چیلنجز آتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلاب نہیں ہوتا کہ آپ ایسا فیصلہ کرلیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک آپ میں کرکٹ باقی ہے تو کسی کی باتوں میں آکر ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ مزید کہا کہ محمد عامر کو اس صورتحال کو چیلنج کے طور پر قبول کرتے ہوئے خود کو ثابت کرنا چاہیئے تھا۔
شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ محمد عامر کا ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ مجھے بالکل سمجھ نہیں آیا۔ اس حوالے سے محمد عامر سے بات کرتے ہوئے یہی مشورہ دیا ہے کہ جو اچھے اور بڑے کھلاڑی ہوتے ہیں ہمیشہ کم بیک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب سابق کپتان و سابق چیف سلیکٹر انضمام الحق کا کہنا ہے کہ محمد عامر ایک بڑا کھلاڑی ہے اور اگر وہ کسی ٹور سے ڈراپ ہو بھی گیا تو اس طرح کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کھلاڑی اس طرح کے فیصلے لے رہے ہیں تو یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کیلئے بھی اچھا سائن نہیں ہے۔ کھلاڑیوں کو بورڈ سے جاکر بات کرنی چاہیئے اور اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے تو بیٹھ کر بات کرنی چاہیئے۔
انضمام نے مزید کہا کہ مینجمنٹ کو بھی یہ چاہیئے کہ اگر وہ کسی بڑے کھلاڑی کو ٹیم سے ڈراپ کریں تو اس کے ساتھ ایک بار بیٹھ کر بات ضرور کریں۔ اس طرح کے فیصلے آنا پاکستان کرکٹ اور نئے کھلاڑیوں کیلئے بھی اچھا نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس تمام تر صورتحال میں بورڈ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔
واضح رہے کہ ٹیم مینجمنٹ کے رویے سے ناراض ہوکر آج پاکستان کے فاسٹ بولر محمد عامر نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا۔
نجی ٹی وی کے صحافی شعیب جٹ کے ساتھ گفتگو میں عامر نے کہا کہ مجھے ذہنی طور پر ٹارچر کیا جارہا ہے، ہر بات پر یہی طنز کیا جاتا ہے کہ آپ پر پاکستان نے بہت انویسٹ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ مینجمنٹ کے انڈر کھیل سکتا ہوں، میں کرکٹ چھوڑ رہا ہوں، میں نے 2010 سے 2015 تک بہت ٹارچر برداشت کیا ہے۔
فاسٹ بولر نے کہا کہ کرکٹ میں دوبارہ واپسی کا کریڈٹ میں دو بندوں (نجم سیٹھی اور شاہد آفریدی) کو دیتا ہوں، ان دو بندوں نے مشکل وقت میں میرا بہت ساتھ دیا، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ میرا ذاتی فیصلہ تھا مگر اسے اس طرح پیش کیا گیا جیسے میں ملک کیلئے کھیلنا ہی نہیں چاہتا، "ارے بھائی ملک سے کون نہیں کھیلنا چاہتا"؟ مزید کہا کہ کبھی بولنگ کوچ کہتے ہیں عامر نے ڈچ کردیا تو کبھی کہتے ہیں اس کا ورک لوڈ نہیں تھا۔
محمد عامر نے مزید کہا کہ جب نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کیلئے اعلان کردہ 35 کھلاڑیوں میں میرا نام نہیں آیا تو مجھے دبے لفظوں میں کہا گیا کہ بھائی صاحب آپ ہمارے مستقبل کے پلان میں نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابھی پاکستان واپس پہنچا ہوں، ایک یا دو دن میں اپنی فیملی سے ملاقات کے بعد کرکٹ چھوڑنے کا حتمی اور باضابطہ اعلان کروں گا۔