نیب کی وجہ سے لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کریںگے، جسٹس عمر عطا بندیال
سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو طلب کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کے دو ملزمان کی درخواست ضمانت پر نیب سے گرفتاری سے متعلق پالیسی طلب کرلیں۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر نیب پیشرفت دکھانے میں ناکام رہا تو آئندہ سماعت پر چیئرمین نیب ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔
جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ نیب کی وجہ سے لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کریںگے۔
جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کے ملزمان ڈاکٹر ڈنشا اور جمیل بلوچ کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس میں نیب کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 20 ماہ سے ایک شخص جیل میں جبکہ مرکزی کرداروں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
پراسیکیورٹر جنرل نے تعاون نہ کرنے پرگرفتاری کا مؤقف اپنایا۔
جسٹس سجاد علی نے نیب کے رویہ کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ نیب کا طریقہ کار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، عمر رسیدہ شخص کو پکڑ لیا، باقی 27 لوگ آزاد ہیں، چیئرمین نیب اور نیب حکام کے علاوہ کوئی نیب کی تعریف نہیں کرتا۔
جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی نے ریمارکس دیے کہ سب جانتے 62 اور42 منزلہ دوعمارتیں کس کی ہیں۔
جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ برطانیہ میں بیٹھ کر ایک شخص نے پلی بارگین کی درخواست دی اور نیب نے قبول کرلی، نیب سے بہترکون جانتا ہے کہ برطانیہ سے کسی شخص کو انٹرپول کے ذریعے بلانا کتنا مشکل کام ہے۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں پیسہ جن دو افراد کو جاتا وہ سب کو معلوم ہے ، باغ ابن قاسم کی زمین پر بلڈنگ بنانے کیلئے سندھ میں الگ سے قانون بنا۔
جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ نیب اپنے قانون کا اطلاق سب پر یکساں نہیں کر رہا، نیب نے ایک سال سے ملزمان کی پلی بارگین درخواستوں پرفیصلہ کیوں نہیں کیا؟
عدالت نے نیب سے ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے پالیسی دو ہفتے میں پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق اور شفافیت کیساتھ دیگرملزمان کیخلاف کارروائی کرے ، تمام ملزمان کیساتھ یکساں سلوک کیا جائے ، کیس کی سماعت آئندہ برس 6 جنوری تک ملتوی کردی۔