کراچی میں دہشتگردی کی دو کوششیں، تحقیقات جاری
کراچی میں دہشتگردی کی دو وارداتیں ہوئیں، ایک کارروائی میں جامعہ کراچی کے دروازہ پر ہینڈ گرینڈ پھینکا گیا اور دوسری کارروائی میں کلفٹن میں بلاک دو میں چینی باشندے کی چلتی گاڑی پر بارودی مواد لگایا گیا۔
دوسری کارروائی میں تو بڑی تباہی آنا تھی، لیکن خوش قسمتی سے ڈیٹونیٹرتو پھٹامگربارودی موادپراثرنہ کرسکا۔
کلفٹن بلاک 2 میں دہشتگردوں نے بڑی کارروائی کی کوشش کی دہشتگرد اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجاتے تو بڑی تباہی آنا تھی، دہشتگردوں نے چھوٹی کارروائی کے ذریعے بڑی تباہی کا پلان بنایا، ذرائع کے مطابق ڈیواس پھٹنے کی صورت میں قریب کھڑاواٹرٹینکر بم بن کرپھٹتا۔
ذرائع کے مطابق واٹرٹینکر پھٹتا تو چینی ریسٹورانٹ، بینک سمیت کئی عمارتوں کو نقصان ہوتا، ریمورٹ کنٹرول بارودی موادگاڑی نمبرKV3088 پر لگایا گیا۔
بی ڈی ایس کے مطابق ڈیٹونیٹرپھٹامگربارودی موادپراثرنہ کرسکا، بارودی کی مقدارایک کلوگرام کے قریب تھی۔
بی ڈی ایس کے مطابق ڈیوائس میں استعمال کیاگیابارودی موادآرڈی ایکس ہے۔
ذرائع کے مطابق آر ڈی ایکس ماضی میں را استعمال کرتی رہی ہے، غیرملکی دہشت گرد بھی اسطرح کا مواد استعمال کرتے رہے ہیں۔
قائدآبادبم دھماکے میں بھی آرڈی ایکس بارودی مواداستعمال کیاگیاتھا۔ یہ بارودی مواد ویسا ہی ہے جیسا چینی قونصلیٹ میں استعمال ہوا۔ قائد آباددھماکہ میں بھی آرڈی ایکس ہی استعمال ہوا تھا۔
پہلے دہشتگردی کے واقعے میں جامعہ کراچی گیٹ کےقریب دستی بم حملہ کی بھی تفتیش جاری ہے، جامعہ کراچی گیٹ پردستی بم حملے میں بال بیرنگ نہیں ملے۔
ذرائع کے مطابق دستی بم آرجی ڈی و اورآرجی ڈی فائیوساخت کاتھا۔