مودی حکومت میں پاک بھارت سیریز کا انعقاد مشکل ہے، وسیم خان
کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کا کہنا ہے کہ رواں سال جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیم پاکستان آئے گی۔ بھارت سے کھیلنے کو تیار ہیں لیکن بھارت میں موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے فی الحال دوطرفہ سیریز کا انعقاد ممکن نظر نہیں آرہا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب میں ان کا مزید کیا کہنا تھا چیئرمین کرکٹ کمیٹی اور چیف سلیکٹر کا اعلان آئندہ ہفتے کردیا جائے گا، وزیراعظم عمران خان بطورسابق کرکٹر اپنی رائے دیتے ہیں لیکن حتمی فیصلے بورڈ کے چیئرمین احسان مانی ہی کرتے ہیں۔
'سسٹم کو تبدیل کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا'
وسیم خان نے کہا کہ پی سی بی نے 5 سالہ حکمت عملی مرتب دی ہے، گزشتہ 2 سال میں بہت تبدیلی آئی ہے، ہم نے سابق کرکٹرز کو پاکستان کرکٹ کے سیٹ اپ میں شامل کیا اور نیا ڈومیسٹک اسٹرکچر تشکیل دیا۔
انہوں نے کہا کہ سسٹم کو تبدیل کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا، کوئی بھی چیز راتوں رات تبدیل نہیں ہوتی۔ کوشش ہے کہ ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کیلئے مضبوط ہو۔
'خواتین کی کرکٹ کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کررہے ہیں'
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی کرکٹ کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، ویمن کرکٹ ٹیم جنوری میں جنوبی افریقہ کا دورہ کرے گی، دورے میں 3 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے۔
'رواں سال جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیمیں پاکستان آئیں گی'
پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو نے مزید کہا کہ 2015 سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی جاری ہے، رواں سال جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیمیں پاکستان آئیں گی جبکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی پاکستان کا دورہ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا مقصد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل بحالی ہے۔
چیئرمین کرکٹ کمیٹی اور سلیکشن کمیٹی کا اعلان آئندہ ہفتے ہوگا''
وسیم خان نے کہا کہ چیئرمین کرکٹ کمیٹی اور سلیکشن کمیٹی کا اعلان آئندہ ہفتے ہوگا۔
'ٹور کے دوران کپتان مقرر کرنے کا اختیار ہیڈکوچ اور ٹیم منیجمنٹ کے پاس ہوتا ہے'
اُن کا کہنا ہے کہ ٹور کے دوران کپتان مقرر کرنے کا اختیار ہیڈکوچ اور ٹیم منیجمنٹ کے پاس ہوتا ہے، بابر کی جگہ کپتان مقرر کرنے کا فیصلہ کوچ اور ٹیم منجمنٹ کرے گی۔ کھلاڑیوں سے نیوزی لینڈ میں چھوٹی موٹی خلاف ورزیاں ہوئیں۔
'بھارت سے کھیلنے کو تیار ہیں مگر مودی حکومت میں ایسا ممکن نظر نہیں آتا'
پی سی بی کے سی ای او نے مزید کہا کہ بھارت سے کھیلنے کو تیار ہیں لیکن مودی حکومت میں پاک بھارت سیریز ہونا مشکل ہے، بھارتی بورڈ کو سیریز کیلئے اپنی حکومت سے اجازت درکار ہوتی ہے۔
'ڈومیسٹک کرکٹرز کو ایک دو روز میں پیسے مل جائیں گے'
وسیم خان نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹرز کو ایک دو روز میں پیسے مل جائیں گے۔ اس کے علاوہ جو گراونڈز مین کام کررہے ہیں اُنہیں بھی پیسے ملتے ہیں۔
'کسی دباؤ پر کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل نہیں کرتے'
انہوں نے کہا کہ کسی دباؤ پر کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل نہیں کرتے، ٹیم میں صرف 15 یا 16 کھلاڑیوں کا انتخاب ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان بطور سابق کپتان اپنا نقطہ نظر دیتے ہیں، مگر پی سی بی کے فیصلے چئیرمیں احسان مانی ہی کرتے ہیں۔
'زاہد محمود بہت باصلاحیت اسپنر ہیں، اُنہیں ضرور موقع ملے گا'
وسیم خان کا کہنا ہے کہ زاہد محمود بہت باصلاحیت اسپنر ہیں، وہ محنت کرتے رہیں، انہیں ضرور موقع ملے گا۔
'ٹیم کو کسی ڈیل کے تحت انگلینڈ نہیں بھیجا تھا'
انہوں نے کہا کہ ٹیم کو کسی ڈیل کے تحت انگلینڈ نہیں بھیجا تھا بلکہ وبا کے دوران کرکٹ کو جاری رکھنے کیلئے کردار ادا کیا۔
'پی سی بی کے ساتھ مزید کام کرنے کا خواہشمند ہوں'
وسیم خان نے کہا کہ میں پی سی بی کے ساتھ مزید کام کرنے کا خواہشمند ہوں لیکن یہ پی سی بی پر ہے کہ وہ میرے معاہدے میں توسیع کرتا ہے یا نہیں۔
پی ایس ایل 6 سے متعلق انہوں نے کہا کہ میچز کراچی میں بھی ہوں گے، یہ بھی بتایا کہ جنوبی افریقی ٹیم کیلئے ایس او پیز پلان کررہے ہیں۔