شائع 12 دسمبر 2020 08:28pm

مینار پاکستان پاور شو کا معیار

پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ستر سے اسی کی دہائی تک لاہور کا موچی دروازہ گراونڈ سیاست کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، مگر اب مینار پاکستان گراونڈ کے جلسے بھی پاور شو کا معیار بن گئےہیں،تیرہ دسمبر کو پی ڈی ایم کا جلسہ سیاسی منظر نامے پر کیا اثرات مرتب کرے گا۔

یہ ہے لاہور کے مینار پاکستان کا وہ مقام جہاں بانی پاکستان کا قرادپاکستان کا جلسہ قیام پاکستان کی بنیاد بنا،ستر کی دہائی میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے جلسے نے پیپلزپارٹی کو جلا بخشی۔

اپریل انیس سو چھیاسی کو جلاوطنی کے بعد مینار پاکستان پر بینظیر بھٹو کے سب سے بڑے تاریخی جلسے نے نہ صرف جمہوریت کی بحالی بلکہ بینظیر کے وزارت عظمیٰ تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔

لاہور کا موچی دروازہ گراونڈ ماضی میں سیاسی تحریکوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، جہاں نوابزادہ نصراللہ سمیت تمام سیاستدان تحریکوں کا رخ موڑتے تھے، مگر موجودہ سیاست میں اکتوبر دوہزار گیارہ میں عمران خان کی جماعت کا مینار پاکستان پر جلسہ بھی انکی بائیس سالہ جدوجہد کا اہم موڑ ثابت ہوا۔

پی ڈی ایم کے تیرہ دسمبر کو مینار پاکستان جلسے کےلئے مریم نواز کارکنوں کو متحرک کرنے میں مصروف ہے۔

تیرہ دسمبر کو اپوزیشن کا جلسہ حکومت کےلئے عوامی ردعمل کے حوالے سے الارمنگ تو ہوسکتا ہے، مگر اہداف کےحصول کےلئے انہیں ابھی منظم لانگ مارچ تک کئی مراحل طے کرنا ہوں گے ۔

Read Comments