شائع 11 دسمبر 2020 12:30pm

وفاقی ترقیاتی ادارہ تو دیوالیہ ہوچکا اس نے تو اب کچھ نہیں کرنا،اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے متاثرین کی درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیا ،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی ترقیاتی ادارہ تو دیوالیہ ہوچکا اس نے تو اب کچھ نہیں کرنا ، جو متاثرین ہیں انہیں پلاٹ کس طرح سے دیئے جائیں گے؟،ریاست اپنے شہریوں کا خیال نہیں رکھ پا رہی ،ریاست قبضہ کررہی ہے، کیا ریاست اتنی کمزور ہے ۔

اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اراضی ایکوائرکرکے سی ڈی اے کی جانب سے معاوضے کی عدم ادائیگی کے کیسزکی سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ جو زمین ایکوائر کی گئی اس کا معاوضہ ہی آج تک ادا نہیں ہوسکا۔

عدالتی استفسارپرسی ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کچھ متاثرین کو معاوضہ ادا کردیا ، باقیوں کا رہ گیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو معاوضہ 1987 میں طے ہوا تھا وہ آج کس طرح سے دیا جا سکتا ہے،جس پر وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ متاثرہ شخص کو پلاٹ لینے کیلئے بیان حلفی جمع کرانا تھا وہ نہیں کرایا گیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے معاوضہ دیے بغیر بیان حلفی لے رہے ہیں کہ معاوضہ دے دیا گیا ، اگرمتاثرہ شخص بیان حلفی دیدےتو باقیوں کی طرح وہ بھی خوار ہوتا رہے،آباؤاجداد کی زمینیں ان سے چھینی جا رہی ہیں،ایک ریاست کو اس طرح کا بیان حلفی لینا ہی نہیں چاہیئے،یہ ریاست ہے،اس کا مطلب ہے ریاست کی رٹ ہی نہیں،جس پر سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ یہی پالیسی بنی ہوئی ہے ۔

چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ یہی اصل کرپشن ہے اور ریاست کے ادارے اس میں ملوث ہیں، سی ڈی اے نے جو اپنے چیئرمین کو پلاٹ دیا کبھی اس میں تاخیر ہوئی ہے،کیا کسی چیئرمین سی ڈی اے کو پلاٹ دیتے ہوئے بیان حلفی مانگے گئے ۔

Read Comments