وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے دی
اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر حذب اختلاف کسی قومی مسئلے پربات کرنا چاہتی ہے تو آئیے بات کیجئے۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کاانسانی حقوق کے عالمی دن پر اپنے بیان میں کہنا تھا کہ پاکستان ہیومن رائٹس کے عالمی ڈیکلریشن کو تسلیم کرتا ہے لیکن آج مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس ڈیکلریشن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔
وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ 5 اگست 2019 سے آج تک 101 خواتین کی اجتماعی آبروریزی ہوئی، بچوں کو پیلٹ گنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، بنیادی انسانی حقوق سلب کر لئے گئے ہیں، پاکستان نے تمام ذمہ داروں کو صورتحال سے آگاہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے انسانی حقوق کے عالمی دن پر دنیا کی توجہ ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال مبذول کرائی،کہا کہ بھارت کی طرف سے فالس فلیگ آپریشن کے خطرے سے دنیا کو مسلسل آ گاہ کر رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کو مذاکراتی ٹیبل پر بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر انتہائی سنگین ہے 50 سے 70 اموات روزانہ ہو رہی ہیں، اپوزیشن کو اس وبائی صورتحال کو پیش نظر رکھنا چاہیئے، ہم جلسوں کیخلاف نہیں ہیں لیکن دنیا ہمیں وبائی صورتحال اور خطرات سے آگاہ کر رہی ہے۔
وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن کسی قومی مسئلہ پر بات کرنا چاہتی ہے تو آئیے بات کیجئے،اپوزیشن اس نظام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے،آج جو لوگ جمہوریت کے علمبردار بنتے ہیں وہی جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔