شائع 08 دسمبر 2020 06:36pm

معاونین خصوصی کی تعیناتی کے خلاف درخواست مسترد، تفصیلی فیصلہ جاری

وزیراعظم کے 15 معاونین خصوصی کی تعیناتی کیخلاف درخواست مسترد کرنے اور مشیروں کی کابینہ نجکاری کمیٹی میں شمولیت غیر قانونی قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ معاونین کی تعیناتی کسی آئینی شق کی خلاف ورزی نہیں، مشیروں کا کابینہ کی نجکاری کمیٹی کا ممبر یا سربراہ بننا غیر قانونی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے 23 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے معاونین خصوصی کی تعیناتی کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاونین کی تعیناتی کسی آئینی شق کی خلاف ورزی نہیں۔معاونین کو وزیر مملکت یا وفاقی وزیر کا عہدہ صرف مراعات کے لئے دیا جاتا ہے۔ معاون خصوصی پارلیمنٹ میں خطاب کر سکتا ہے نہ ہی ایگزیکٹو اتھارٹی کا اختیار ہے۔معاون خصوصی نہ کابینہ کا حصہ ہوسکتا ہے نہ اس کے اجلاس میں شامل ہو سکتا ہے۔

مشیر حفیظ شیخ، عبدالرزاق داود اور عشرت حسین کی کابینہ کی نجکاری کمیٹی میں شمولیت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیران آئینی عہدہ، تعداد زیادہ زیادہ سے زیادہ صرف پانچ ہوسکتی ہے۔ مشیروں کو وفاقی وزیر کا درجہ دینا صرف مراعات کے لئے ہے۔وزیر اعظم کا مشیر کابینہ کمیٹی کا رکن یا سربراہ نہیں ہوسکتا۔پارلیمنٹ میں خطاب کر سکتا ہے لیکن ووٹنگ کا حق نہیں۔وزیر اعظم کے مشیروں کا کابینہ کمیٹی کا ممبر ہونا یا صدارت کرنا غیر قانونی ہے۔

Read Comments