شائع 08 دسمبر 2020 02:44pm

پائلٹ لائسنس منسوخ کرنے کا سول ایوی ایشن کا فیصلہ کالعدم قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پائلٹ لائسنس منسوخ کرنے کا سول ایوی ایشن (سی اے اے )کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،عدالت نے پائلٹ سید ثقلین اختر کا لائسنس منسوخ کرنے کا 14 جولائی کا آرڈربھی کالعدم قراردیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پائلٹ کی برطرفی اورلائسنس منسوخی کیس کی سماعت کی ، پائلٹ کی جانب سے ذیشان ہاشمی ایڈووکیٹ اوراٹارنی جنرل طارق کھوکھر پیش ہوئے ۔

وکیل نےبتایا کہ جنوری 2019 کوایڈیشنل ڈائریکٹرلائسنسنگ اتھارٹی نے شوکازجاری کیا، سیکرٹری ایوی ایشن نے انکوائری بورڈ تشکیل دیا ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس بورڈ کی تشکیل سے معاملہ شروع ہوا؟ قانون میں کہاں درج ہے کہ وفاقی حکومت سیکرٹری کو ڈی جی کا اضافی چارج دے سکتی ہے اور وہ خود کو اتھارٹی مان کر شوکاز نوٹس جاری کر سکتاہے،سیکرٹری کے ایسے فیصلوں سے نیشنل ایئر لائن پر برا اثر پڑا۔

اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے معاونت کیلئےاسلام آبادہائیکورٹ سے وقت مانگ لیا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پائلٹ سید ثقلین کا معاملہ نئے ڈی جی ایوی ایشن کو بھیجتے ہوئے انکوائری بورڈ سمیت 14 جولائی کا پائلٹ کا لائسنس منسوخی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

Read Comments