اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2020 12:02pm

سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پرنیب کونوٹس جاری کردیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے حمزہ شہبازکی ضمانت کی درخواست پرقومی احتساب بیورو(نیب) کو نوٹس جاری کردیا اور سلمان شہباز سمیت شریک ملزمان کی عدم گرفتاری پربرہمی کا اظہارکرتے ہوئے مفرور ملزمان کی جائیداد ضبطگی کی تفصیلات طلب کرلیں۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کےرہنماءحمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا بیانات میں وقت کیوں لگ رہا ہے، دیگرملزمان کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟۔

نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ گواہان شریف خاندان کے ملازم ہیں، انہیں بلا کر بیان ریکارڈ کرنا مشکل عمل ہے، دیگرملزمان اشتہاری قرار دیئے جا چکے ہیں۔

جسٹس مشیرعالم نے ریمارکس دیئے کہ بہترہوگا میرٹ پرکوئی آبزرویشن نہ لیں، حمزہ شہباز سے منسوب اکاؤنٹس کا جائزہ لیا تو مشکل ہوجائے گی۔

جسٹس یحیی آفریدی نے کہاکہ میرٹ پرضمانت نہ مانگیں یہ پہاڑسرکرنے والی بات ہوگی ۔

جسٹس سردارطارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ ملزم کو11جون 2019 کوگرفتارکیا ، اب تک جائیداد ضبط کیوں نہیں ہوسکی؟ سلمان شہباز کی جائیداد ضبط کیوں نہیں ہوئی؟ سارا ریفرنس خالی پڑا ہے، مفرور ملزمان کوصرف اشتہاری ہی کیا گیا ٹرائل کورٹ بھی ڈھیلی ہو کر آرام سے بیٹھی ہے، نیب کسی کو پکڑ لیتا ہے اورجائیداد بھی ضبط نہیں ہوتی۔

عدالتی استفسار پر حمزہ شہباز کے وکیل نے بتایا کہ شہباز شریف نے ہائیکورٹ میں ضمانت کیلئے رجوع نہیں کیا ۔

جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ پہلے شہباز شریف کا ٹرائل ہونے دیں، اگروہ بری ہوئے تو حمزہ شہباز بھی ہوجائیں گے ۔

عدالت نے نیب کورٹ لاہور سے مقدمات کی تفصیلات اور جائیداد ضبطگی کی کارروائی میں تاخیر پر نیب سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

حمزہ شہباز کی درخوست ضمانت پر تمام نیب مقدمات کی تفصیل طلب

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی درخوست ضمانت پر احتساب عدالت لاہور سے تمام نیب مقدمات کی تفصیل طلب کرلی۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کےرہنماءحمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

عدالت نے کہاکہ بتایا جائے حمزہ شہباز کے کیس کا کیا نمبر ہے؟ ٹرائل کورٹ میں اس کیس کا نمبرکب آئے گا؟ ٹرائل کورٹ میں کتنے مقدمات زیرالتوا ءہیں؟۔

جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ ٹرائل کورٹ میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو، سپریم کورٹ حکم دے چکی ہے کہ نیب مقدمات کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہو گی۔

Read Comments