'عمران صاحب کو غلط فہمی ہے کہ آپ کو سقوط کشمیر پر این آر او ملے گا'
ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عمران صاحب کی غلط فہمی ہے کہ ان کو غیر قانونی 23 فارن فنڈنگ کیس میں این آر او ملے گا، عمران صاحب آپ کو غلط فہمی ہے کہ اب آپ کو سقوط کشمیر پر این آر او ملے گا۔
مریم اورنگزیب نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ عمران صاحب ٹی وی لگائیں حالات مختلف ہو گئے ہیں، ایف آئی آر تو اب آٹا، چینی، بجلی، گیس، دوائی، روزگار اور ووٹ چوروں کے خلاف کٹ چکی ہے، عمران صاحب ان کی مانیں تو ووٹ چوری کے خلاف آپ بھی بارہ دسمبر کو استعفا دے کر مینار پاکستان آئیں، لاہور جلسے کے منتظمین اور جلسے میں کرسی لگانے والوں میں شامل ہو جائیں۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران صاحب اگر لاہور جلسے کا آپ کو فرق نہ پڑتا تو آپ یہ بیان نہ دیتے، لاہور جلسہ بھی ہو گا اور عمران صاحب آپ کرسی بھی چھوڑیں گے، ان شاء اللہ۔۔۔ عمران صاحب گل جلسے توں ود کے استعفے تے آ گئی جے۔۔۔
دوسری جانب لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ این آر او کون دے سکتا ہے کون نہیں، بحث بیکار ہے۔ این آر او دیں نہ لیں، ملک کو انتشار اور تصادم سے بچائیں۔
سعد رفیق نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ٹویٹ میں مشورہ دیا کہ کرسی چھوڑیں ، فری اینڈ فیئر الیکشن کروائے جائیں، ووٹ کا فیصلہ سب تسلیم کریں، پاکستان کو آگے بڑھنے دیا جائے۔
رہنما پیپلزپارٹی قمرزمان کائرہ نے کہا کہ وزیراعظم صاحب ہمیں این آر او نہیں آپ کا استعفیٰ چاہیے، مشرف ہمیں این آر او دینے والا کون تھا، ہم نے تو اس سےاستعفیٰ لیا، جتنےچاہے مقدمے درج کرو، لاہور جلسہ پوری طاقت سے ہوگا۔
قمر زمان نے کہا کہ وزیراعظم کی بوکھلاہٹ بتارہی ہے کہ یہ جانے والے ہیں، اب ان کا صرف دھمکیوں پر گزارا ہے، وزیراعظم کی ہر تقریر میں تکبر جھلکتا ہے، یہی ان کے زوال کی بڑی نشانی ہے۔