فاتح سبونہ میجر شبیر شریف شہید کا آج 49 واں یوم شہادت
سنہء1971 کی پاک بھارت جنگ میں حویلی لکھا کے سرحدی علاقہ سلیمانکی سیکٹر پر جرات اور بہادری کی دستان رقم کرنے والے فاتح سبونہ میجر شبیر شریف شہید کا آج 49 واں یوم شہادت منایا جا رہاہے۔
یجر شبیر شریف 1971 کی پاک بھارت جنگ میں حویلی لکھا کے سرحدی علاقہ سلیمانکی ہیڈ ورکس کے قریب 6 ایف ایف کی ایک کمپنی کی کمانڈ کر رہے تھے، انہیں 3 دسمبر 1971 کو انڈیا کے علاقے میں سبونہ بند پر قبضہ کرنے کی مہم سونپی گئی۔
دشمن نے دفاع کیلئے آسام رجمنٹ کی ایک کمپنی سے زیادہ نفری تعینات کر رکھی تھی جسے ٹینکوں کی ایک سکواڈرن کی امداد حاصل تھی، اس پوزیشن تک پہنچنے کیلئے دشمن کی بارودی سرنگیں اور پھر نہر سبونہ کے پل کو پار کرنا تھا جس پر دشمن کی مشین گنیں نصب تھیں۔
گھمسان اس معرکے میں میجر شبیر شریف نے مرادنہ وار مقابلہ کیا اور دشمن کے 43 سپاہی مار دیئے اور 38 قیدی بنا لئے گئے۔ چار ٹینک بھی تباہ ہوئے۔
6 دسمبر کی سہ پہر کو دشمن کے ایک اور حملے کا دفاع کرتے ہوئے میجر شبیر شریف اپنے توپچی کی اینٹی ٹینک گن سے دشمن کے ٹینکوں اور توپوں پر گولے برسا رہے تھے کہ ٹینک کا ایک گولہ ان پر آن پڑا اور اس مجاہد نے عین حالت جدال میں جام شہادت نوش کیا۔
گورنمنٹ آف پاکستان نے میجر شبیر شریف شہید کی اس بے مثال قربانی اور جنگ میں داستانیں رقم کرنے پر نشان حیدر عطاء کیا۔
قوم دھرتی کے اِس عظیم سپوت کو سلامِ عقیدت پیش کر رہی ہے۔
ڈی جی، آئی ایس پی آر نے بھی ٹویٹ کیا اور لکھا کہ انکی جرات ہمیں یہ بات باور کراتی ہے کہ کامیابی کے لیے تعداد نہیں بلکہ جرات اور استقلال ضروری ہوتا ہے۔