کمبوڈیا میں پاکستانی نوجوان اغوا، جان کو شدید خطرہ

طاہر رسول اور دوست کو ملازمت کے بہانے اغوا کر کے قید، تشدد کا نشانہ بنایا گیا
شائع 19 جنوری 2026 01:15pm

کمبوڈیا میں دو پاکستانی نوجوان اغوا کاروں کے ہتھے چڑھ گئے۔ متاثرہ نوجوان طاہر رسول اور ان کا دوست ملازمت کے لیے کمبوڈیا گئے تھے، جہاں انہیں اغوا کر کے ایک کمرے میں قید کر دیا گیا۔

نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ 22 دسمبر کو لاہور سے ملائیشیا وزٹ ویزا پر روانہ ہوئے اور 25 دسمبر کو کمبوڈیا پہنچے۔ تین دن کے انتظار کے بعد ٹیلی گرام کے ذریعے انہیں نوکری کی پیشکش ہوئی، لیکن ویزا لگوانے کے بہانے بلیک کمپنی نے ان کے پاسپورٹ قبضے میں لے لیے اور دوست کے ساتھ ایک کمرے میں بند کر دیا۔

متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ وہاں مزید 10 پاکستانی اور خواتین بھی اغوا کاروں کے پاس ہیں اور تمام مغویوں پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

اغوا کاروں نے تشدد کے دوران نوجوان کے ناخن بھی کھینچ لیے۔ متاثرہ نوجوان بھاگ کر فیکٹری کے ایک کمرے میں چھپے ہوئے ہیں اور بنگلہ دیشی ملازم کے فون کے ذریعے گھر رابطہ کیا۔

نوجوان نے بتایا کہ کمبوڈیا میں پاکستانی ایمبیسی سے بھی مدد طلب کی مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ متاثرہ نوجوان کی شناختی کارڈ نمبر 36402-4450201-3 اور پاسپورٹ نمبر DQ982011 سامنے آیا ہے۔

انہوں نے پاکستانی حکام سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں اور اغوا کار کسی بھی وقت ان تک پہنچ سکتے ہیں۔

Combodia