ایران: رجیم چینج کی امریکی دھمکی یا خوف
عالمی سطح پر یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ امریکا ایران میں نظام کی مکمل تبدیلی چاہتا ہے اور ایرانی حکومت کے ناقدین بغلیں بجا رہے ہیں کہ انہیں موجودہ حالات میں تہران میں اقتدار کا خاتمہ نظر آرہا ہے۔ لیکن امریکی مفادات کو قریب سے دیکھا جائے تو تصویر اتنی سادہ نہیں ہے۔
ایران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج کئی شہروں تک پہنچ چکا ہے اور ہنگاموں کے دوران متعدد افراد کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ لیکن اسی ہنگامہ آرائی کے دوران ایرانی حکومت کے حامی بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
عمومی تاثر تو یہی ہے کہ امریکا ایران میں رجیم چینج چاہتا ہے، وہاں کے عوام کو ’آزادی‘ دلانا چاہتا ہے اور جمہوریت نافذ کرنا چاہتا ہے۔ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسی کاروباری ذہنیت رکھنے والے صدر کے دور میں امریکی خارجہ پالیسی اصولوں سے زیادہ سودے بازی کے گرد گھوم رہی ہے۔
حالات کو گہری نظر سے دیکھیں تو بظاہر امریکا آزاد، مضبوط اور جمہوری ایران سے زیادہ ایک کمزور، دباؤ میں آئے ہوئے اور قابو میں رہنے والے ایران کو ترجیح دے گا۔
ایک ٹوٹے پھوٹے نظام کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، کیوں کہ اس کے ساتھ بات چیت کرنے یا دباؤ ڈالنے کے لیے کوئی واضح فریق باقی نہیں رہتا۔ اس کے برعکس ایک ایسا نظام جو اپنی بقا کے لیے پریشان ہو، وہ ایٹمی، علاقائی اور معاشی معاملات میں بڑی رعایتیں دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔
امریکہ اس وقت یہی چاہتا ہے کہ ایران دباو میں آکر وہ سب مطالبات مان جائے جن کے بارے میں اس سے تقاضا کیا جاتا ہے۔ لیکن ایرن میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے پہلے امریکی حلقوں میں تشویش بھی پائی جاتی ہے۔
امریکا کی ایک بڑی کمزوری غیر یقینی صورتِ حال کا خوف ہے۔ کیوں کہ عراق، لیبیا اور افغانستان میں حکومتوں کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے حالات اب بھی امریکی پالیسی سازوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔
انہیں خدشہ ہے کہ اگر ایران میں موجودہ نظام اچانک ختم ہو گیا تو ملک نسلی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم ہو سکتا ہے، خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور طاقت مختلف مسلح گروہوں کے ہاتھ میں جا سکتی ہے۔
ایسے حالات امریکا کو دوبارہ مشرقِ وسطیٰ میں اس طرح اُلجھا سکتے ہیں کہ وہ دیگر معاملات پر اپنی توجہ کم کرنے پر مجبور ہو جائے، جو ٹرمپ کی ’امریکا فرسٹ‘ کی سوچ کے بالکل برعکس ہے۔
خطے کی سیاست میں ایران کی موجودہ حکومت کا کردار بھی امریکی مفادات کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکا موجودہ ایران کو ایک خطرے کے طور پر پیش کر کے خطے کو واضح طور پر اتحادیوں اور مخالفین میں تقسیم رکھتا ہے۔
یہی خطرہ خلیجی ممالک اور اسرائیل کو امریکا کے قریب رکھتا ہے اور دفاعی تعاون کو مضبوط بناتا ہے۔
اگر ایران ایک پرامن اور جمہوری ملک بن جائے تو خطے میں یہ طاقت کا توازن بدل سکتا ہے اور امریکا کا ساتھ دینے والا وہ اتحاد بھی کمزور پڑ سکتا ہے جو ایران کے خوف پر کھڑا ہے۔
اسی سے جڑا ایک بڑا معاشی پہلو اسلحے کی فروخت ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کے امریکی ہتھیار خریدنے کی ایک بڑی وجہ ’ایران سے خطرہ‘ بتایا جاتا ہے۔
ایک پُرسکون اور مستحکم ایران اس ضرورت کو کم کر سکتا ہے، جس سے امریکی دفاعی صنعت متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی طرح اسرائیل کا ایران کے حوالے سے عدم تحفظ اسے امریکی سفارتی اور عسکری حمایت پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور رکھتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی شخصیت اور انداز حکمرانی کو بھی اس بحث میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ وہ خود کو جمہوریت کا علمبردار کم اور ایک طاقت ور سودے باز زیادہ تصور کرتے ہیں۔
ان کے نزدیک مخالفین کو دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے مذاکرات کی میز پر لانا کامیابی کی علامت ہے۔
اس تناظر میں ایک ایسا ایران جو دباؤ میں ہو اور جھکنے پر مجبور ہو، ٹرمپ کے لیے ایک ایسی فتح بن سکتا ہے جس کا وہ سیاسی فائدہ اٹھا سکیں۔
توانائی کے شعبے میں بھی امریکا کے اپنے مفادات ہیں۔ ایک آزاد اور خوش حال ایران عالمی منڈی میں تیل اور گیس کا بڑا کھلاڑی بن سکتا ہے، جس سے قیمتوں پر دباؤ پڑے گا۔
امریکا، جو خود بھی توانائی برآمد کرنے والا ملک ہے، اس کا اسی بات میں فائدہ ہے کہ ایران پابندیوں اور معاشی مشکلات میں گھرا رہے اور عالمی منڈی میں مضبوط مقابل نہ بن سکے۔
صدر ٹرمپ کے گرد موجود بعض مشیر، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس جیسے رہنما شامل ہیں، مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسا دلدل سمجھتے ہیں جس سے کبھی نکلا نہیں جاسکتا۔
ان کا خیال ہے کہ امریکا کو کسی نئی جنگ یا تعمیرِ نو کے عمل میں الجھائے بغیر سخت معاشی دباؤ اور سفارتی پابندیوں کے ذریعے خطے کو سنبھالا جا سکتا ہے۔
اس مجموعی تصویر سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ امریکا فی الحال ایران کو آزاد کرانے کے بجائے اسے ڈرا دھمکا کر قابو میں رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایک ایسا ایران جو اتنا کمزور ہو کہ بڑا خطرہ نہ بن سکے۔ البتہ اس کا اتنا دبدبہ موجود ہو کہ خطے میں خوف اور توازن برقرار رکھے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

















