پرینک ویڈیو کے لیے باوردی پولیس اہلکاروں کا استعمال شروع

باوردی اہلکاروں کی حرکت نے پنجاب پولیس کی ساکھ پرسوال اٹھا دیے
شائع 30 نومبر 2025 09:52am

لاہور میں یوٹیوبر کی پرینک ویڈیو نے پولیس کو نئی مشکل میں ڈال دیا۔ باوردی اہلکار نہ صرف یوٹیوبر کے ساتھ جعلی ریڈ میں شریک ہوئے بلکہ نوجوانوں کو تھپڑ مارنے اور جھوٹے الزامات لگانے تک بات پہنچ گئی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے۔

لاہور میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے یوٹیوبر کی پرینک ویڈیو میں حصہ لینے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے محکمہ پولیس کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یوٹیوبر ذوالقرنین سکندر نے اپنے دوستوں پر جعلی ریڈ کروایا۔

AAJ News Whatsapp

رپورٹس کے مطابق پولیس ناکے پر موجود اہلکار یوٹیوبر کے بلانے پر فوری طور پر پرینک میں شامل ہو گئے۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ اہلکار اسلحہ اٹھائے یوٹیوبر کے ساتھ کارروائی کرتے رہے۔

یوٹیوبر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں نے نوجوانوں کو تھپڑ بھی مارے، جبکہ انہیں جوا کھیلنے کے جھوٹے الزام میں پکڑنے کا ڈراما رچایا۔ اہلکار نوجوانوں کو تھانے لے جانے کی دھمکیاں دیتے رہے، جس سے موقع پر موجود افراد شدید خوف میں مبتلا رہے۔

پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان؟ شکایات کا انبار لگ گیا

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یوٹیوبر پورے جعلی آپریشن کی ریکارڈنگ بناتا رہا جبکہ پولیس اہلکار مکمل تعاون کر رہے تھے۔ یہ عمل اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

پنجاب: 48 گھنٹوں میں 7 کروڑ روپے سے زائد کے ٹریفک چالان

باوردی اہلکاروں کی اس حرکت نے پولیس کے پیشہ ورانہ معیار اور ذمہ داری پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں نے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی حفاظت پر مامور اہلکار اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ پرینک کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں۔ مزید کارروائی کے حوالے سے حکام کی جانب سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

police officers

prank videos

used for

started being

in Bawardi