جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ جج نہ بن سکیں

جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ جج نہ بن سکیں ۔ جوڈیشل کمیشن اراکین کے...
شائع 09 ستمبر 2021 07:39pm

جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ جج نہ بن سکیں ۔ جوڈیشل کمیشن اراکین کے درمیان اتفاق رائے نہ ہو سکا، چار نے حمایت جبکہ چار نے مخالفت کر دی ۔

چیف جسٹس گلزاراحمد کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والا اجلاس بالآخر ختم ہو گیا۔

اراکین کمیشن کے درمیان لاہورہائیکورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کے نام پر اتفاق نا ہو سکا۔ معاملہ چار، چار سے ٹائی ہو گیا۔

چیف جسٹس، جسٹس عمرعطاء بندیال، وزیرقانون اوراٹارنی جنرل نے جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کی حمایت کی جبکہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد اور نمائیندہ پاکستان بار کونسل اختر حسین نے معزز جج کے نام کی مخالفت کر دی ۔

اس سے پہلے پاکستان کی وکلا تنظیموں نے لاہور ہائی کورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

وکلا تنظیموں کا موقف تھا کہ جسٹس عائشہ اے ملک لاہور ہائی کورٹ کی جونیئر جج ہیں اور ان کی سپریم کورٹ میں ترقی عدلیہ میں سینیارٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

احتجاج کی اپیل پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد بار کونسل اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس مشیر عالم 18 اگست کو ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔