ظاہر جعفر کیخلاف تھراپی ورکس کی مقدمہ درج کرنیکی درخواست
تھراپی ورکس کے مالک طاہر ظہور نے اسلام آباد کی سیشن اور ڈسٹرک کورٹ میں ظاہر جعفر کیخلاف مقدمہ درج کرنیکی درخواست دائر کردی۔ یہ درخواست تھراپی ورکس کی ٹیم کے رکن پر حملہ کرنے اور اسکو زخمی کرنے پر دائر کی گئی ہے۔
تھراپی ورکس کے آفس کو بھی انتظامیہ نے سیل کردیا ہے ، تھراپی ورکس کو اس وقت عوام کی جانبسے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب نور مقدم قتل کیس میں یہ بات منظر عام پر آئی تھی کہ ظاہر جعفر تھراپی ورکس سےمنسلک ہے تاہم ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ ظاہر جعفر کو تھراپسٹ کی حیثیت سے کام کرنیکی جازت تھی یا نہیں ، اس بات کا تعین تاحال کیا جاناہے۔
اب تھراپی ورکس کے سی ای او طاہر ظہور اپنے وکیل شہزاد قریشی کے ذریعے سے عدالت میں ظاہر جعفر کیخلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے درخواست دائر کردی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ اسکی طبی ٹیم نے بیس جولائی کو ظاہر جعفر کے والد کی درخواست پر گھر کا دورہ کیاتھا کیونکہ اسکے والد ظاہر جعفر کو تھراپی ورکس میں علاج کیلئے داخل کرانا چاہتے تھے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جب تھراپی ورکس کا ٹیم ممبر ظاہر جعفر کے کمرے میں داخل ہوا تو اس پر چاقو سے ظاہر جعفر نے حملہ کردیا تاہم اس موقعے پر طبی ٹیم کے دیگر لوگوں نے اسکو پکڑا ۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ اس موقعے پر طبی ٹیم نے ایک نوجوان لڑکی کو فرش پر پڑے ہوئے پایا جسکا سر اسکے جسم سے جدا کردیاگیا تھا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ تھانہ کہوسار میں اس حوالے سے درخواست بھی دائر کی گئی ہے تاہم پولیس نے اس سانحے پر تھراپی ورکس کے موقف کو نہ ہی سنا ہے اور نہ ہی درخواست پر کسی قسم کی کارروائی کی ہے۔
تئیس اگست کو تھراپی ورکس کے مالک سمیت اسکے چھ ملازمین کی ضمانت کی منظور ہوگئی تھی تاہم نور مقدم کے والد کی جانب سے تین روز بھی اس ضمانت کیخلاف درخواست دائر کردی تھی جس میں اسکو چیلنج کیاگیا تھا۔
اس سے پہلے اکتیس اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں نور مقدم قتل کیس تاحال زیر سماعت ہے اور آج پھر مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے جوڈیشل ریمانڈ میں چھ ستمبر تک توسیع کردی گئی۔
ظاہر جعفر کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت لایا گیا۔
تاہم اس کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بجائے ہولڈسنگ سیل میں ہی مقید رکھا گیا ۔جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے ظاہر جعفر کی پیشی کو قبول کرتے ہوئے پولیس کی استدعا پر مزیر جوڈیشل ریمانڈ میں چھ ستمبر تک توسیع کردی ۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔