سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری پر رائے کیلئے خط

سپریم کورٹ میں ججز تقرری کے معاملے پروکلاء برادری کے تحفظات پر...
اپ ڈیٹ 01 ستمبر 2021 12:16am

سپریم کورٹ میں ججز تقرری کے معاملے پروکلاء برادری کے تحفظات پر اٹارنی جنرل خالد جاوید نے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اورصدرسپریم کورٹ بارکوخط لکھ دیا ۔

اٹارنی جنرل نے خط میں ججزکی تقرری کے حوالے سے کہا ہے کہ وکلاء برادری اپنی رائے دیں تاکہ 9 ستمبرکے روز جوڈیشل کمیشن اجلاس میں پیش کی جائے ۔

اٹارنی جنرل نے خط میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں طے کر چکی کہ ججز تقرری کیلئے سینیارٹی لازمی نہیں۔ سپریم کورٹ میں سینیارٹی کے اصول کے بغیرتقرریوں کی طویل فہرست موجود ہے۔ سپریم کورٹ کے طے کردہ اصول پر وکلاء برادری اورجوڈیشل کمیشن دونوں میں متضاد رائے ہے اسلئے وکلاء برادری سے درخواست ہے کہ وہ اپنی رائے دیں ۔

خط میں کہا گیا کہ ججزتقرری کا ایسا طریقہ کار وضح کیا جائے جس سے اقربا پروری اور ذاتی پسند و ناپسند کا امکان ختم کیا جاسکے۔ ہائیکورٹس کے ججزکی اہلیت کوجانچنے کے کئی طریقہ کار ہوسکتے ہیں. کہیں ججز کی اہلیت جانچنے کیلئے موثرڈیٹا اورریاضی کا سہارا لیا جاتا ہے تو کہیں ججز تقرری سے قبل عمومی تاثرکو سامنے رکھا جاتا ہے۔ میری یہ بھی درخواست ہوگی کہ سپریم کورٹ میں خواتین ججز کیلئے بھی نشستیں ہونی چاہیں ۔

اٹارنی جنرل نے خط میں کہا کہ 2027 میں ایک خاتون جج بھارتی سپریم کورٹ کی چیف جسٹس بنیں گی ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے حال ہی میں تین خاتون ججز کو تعینات کیا ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والی ججز کے معاملے میں سینیارٹی کے اصول کو مد نظر نہیں رکھا گیا ۔