نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کے جوڈیشل ریمانڈمیں مزید توسیع
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں نور مقدم قتل کیس تاحال زیر سماعت ہے اور آج پھر مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے جوڈیشل ریمانڈ میں چھ ستمبر تک توسیع کردی گئی۔
ظاہر جعفر کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت لایا گیا۔
تاہم اس کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بجائے ہولڈسنگ سیل میں ہی مقید رکھا گیا ۔جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے ظاہر جعفر کی پیشی کو قبول کرتے ہوئے پولیس کی استدعا پر مزیر جوڈیشل ریمانڈ میں چھ ستمبر تک توسیع کردی ۔
اس سے قبل چوبیس اگست کو اسلام آبادکی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے نور مقدم قتل کیس میں تھراپی سینٹر کے سی ای او سمیت 6 ملازمین کی ضمانت کا تحریری حکم جاری کردیا۔
ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، تحریری فیصلے میں ملزمان کی ضمانت منظور کرنے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
جاری کردہ فیصلے کے مطابق نور مقدم کے قتل کے وقت تھراپی سینٹر کے سی ای او یا ملازمین موقع پر موجود نہیں تھے، ریکارڈ کے مطابق مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے تھراپی ورکس کے ملازم امجد کو بری طرح زخمی کیا ہے۔
فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان کے ثبوت مٹانے یا شواہد ضائع کرنے کا معاملہ ٹرائل کے دوران طے ہو گا، اس موقع پر یہ مفروضہ قائم نہیں کیا جا سکتا کہ تھراپی ورکس کی ٹیم ثبوت مٹانے گئی تھی۔
جاری کیے گئے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ موقع پر پہنچنے سے پہلے تھراپی سینٹر کی ٹیم کو قتل کا علم تھا یا نہیں، یہ بھی دوران ٹرائل طے ہو گا،
ایسے حالات میں گرفتار ملزمان کو لامحدود وقت کیلئے جیل میں رکھنے سے پراسیکیوشن کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا، ملزمان کی 5،5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانتیں منظور کی جاتی ہیں۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔