کابل ایئرپورٹ کا نظام سنبھالیں یا نہیں، ترکی مخمصے کا شکار

کابل ایئرپورٹ کا نظام سنبھالنے کے حوالے سے تاحال ترکی مخمصے کا...
شائع 27 اگست 2021 11:00pm

کابل ایئرپورٹ کا نظام سنبھالنے کے حوالے سے تاحال ترکی مخمصے کا شکار ہے ۔طالبان نے ترکی سے درخواست کی ہے کہ وہ کابل ایئرپورٹ کو چلانے میں انکی تکنیکی معاونت کرے ۔

بوسنیا روانہ ہونے سے قبل ترک صدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے کابل ایئرپورٹ کو آپریٹ کرنے سے متعلق درخواست کی ہے تاہم ابھی تک ہم نے اس پر کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے کیونکہ وہاں پر اموات اور دیگر اس نوعیت کے واقعات کا خدشہ ہے۔

ترک صدر طیب اردگان کا کہنا تھا کہ اس وقت کابل میں سنجیدہ نوعیت کا ایک خلا پیدا ہوگیا ہے اور ہمیں اس تصویر کاجائزہ بھی ضرور لینا چاہیئے۔ اور افغانستان کی درخواست سے متعلق کوئی بھی فیصلہ نئی انتظامیہ کی تشکیل کے بعد کیا جائیگا۔

طیب اردگان نے مزید کہا کہ ترکی افغانستان سے متعلق کوئی بھی قدم اس وقت اٹھائے گا جب وہاں پر صورتحال میں استحکام آجائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی کابل کی پروازیں جلدبازی میں شروع کرنا نہیں چاہے گا۔

ترکی طالبان پر زور دے رہا ہے کہ وہ اشرف غنی کو بھی اپنے ساتھ حکومت میں شامل کرے کیونکہ انکو عالمی سطح پر ساکھ ہے۔

کابل ایئرپورٹ میں موجود ترک سفارتخانے کا تذکرہ کرتے ہوئے ترک صدر نے آگاہ کیا کہ وہاں پر طالبان اور ترک حکام کے درمیان تین گھنٹے تیس منٹ کا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہ مواقع مستقبل میں بھی میسر ہونگے ۔ انہوں نے طالبان کیساتھ اجلاسوں کو صحت مندانہ عمل قرار دیا۔

اس موقعے پر ترک صدر نے بھی ترک شہریوں اور فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کو ترجیح قرار دیا اور کہا کہ یہ انخلا جلد از جلد مکمل کیا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فضائی پل ترکی ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تشکیل پا چکا ہے اور انخلا کیلئے آپریشن انٹیلی جنس سروسز،دفاعی اور وزارت خارجہ کے اشتراک سے کیا جارہا ہے اور یہ اکتیس دسمبر کی طالبان کی دی گئی ڈیڈلائن سے پہلے مکمل کیا جانا ہے۔

ترکی کی حامد کرزئی ایئرپورٹ کی نگرانی کی پیشکش

پہلے ترکی نے کابل میں حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کی پیشکش کی تھی ۔

طالبان کی جانب سے اتوار کو کابل قبضے میں لیے جانے کے بعد حالات واضح نہیں تھے اور امریکا نے اپنے شہریوں کی بحفاظت انخلا کے لیے پانچ ہزار سے زیادہ فوجی اس وقت تعینات کر دیے تھے۔

تاہم ترکی خواہاں تھا کہ اگر امریکہ نے اسے 'سفارتی، لاجسٹک اور مالی مدد' فراہم کی تو انقرہ اس ہوائی اڈے کی سیکیورٹی سنبھال سکتا ہے۔

Source: hurriatdailynews.com