'پاکستان کو افغانستان میں موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرانا بالکل غلط ہے'
مشیر قومی سلامتی معید یوسف کہتے ہیں پاکستان کو افغانستان میں موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرانا بالکل غلط ہے، ہم نے امریکی جنگ میں ساتھ مل کر کام کیا مگر اور اس کے بعد پاکستان پر منفی ردعمل آیاَ۔
واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو میں کہا کہ اگر نوے کی دہائی کی غلطیوں کو دہرایا گیا تو نتیجہ بھی وہی نکلے گا۔
واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو میں کہا کہ کیا پاکستان نے افغان نیشنل آرمی سے کہا تھا ہے کہ وہ لڑائی نہ کرے؟ پاکستان نے واشنگٹن کی درخواست پر طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد کی لیکن اب نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جو کہ مناسب نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں عدم استحکام پاکستان کے لیے دہشت گردی، افغان مہاجرین کی آمد اور معاشی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے، افغانستان میں امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا کیوں کہ خطے میں امن کسی ایک کی کاوشوں سے ممکن نہیں۔
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخار نے کہا ہے کہ بھارت نے ہزاروں افغان فوجیوں کو تربیت دی، پاکستان دنیا کو افغان امن سبوتاژکرنے والوں کی نشاندہی کرتا رہا۔
پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سرحد پر باڑ لگانے کا کام ایک بہت بڑا کام تھا، پاک افغان کی 80 فیصد سرحد پر باڑ لگائی جاچکی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ باڑ لگانے کے دوران متعدد پاکستان فوجی شہید ہوئے، 377 پوسٹس کے درمیان میلوں کا فاصلہ ہے، 20 سال کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے دہشتگردی کا خاتمہ کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن شیردل، راہ نجات،راہ راست، ضرب عضب جیسے کئی آپریشن کئے، 6 ستمبر یوم دفاع قوم کے ساتھ ملکر منائیں گے، اس یوم دفاع پر ٹیگ لائن ہوگی 'وطن کی مٹی گواہ رہنا' افغانستان میں جو بھی ہورہا ہے اسکا اثر پاکستان پرآئے گا۔اسی لئے افغانستان میں دہشتگردوں کے انفراسٹرکچر کے حوالے سے تحفظات ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کررہی ہے، ہمیں یقین ہے افغان طالبان اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے، پاکستان میں اب دہشتگردوں کا کوئی انفراسٹرکچر نہیں ہے۔ ہم نےانہیں پاکستان سے باہر نکال دیا ہے، پاکستان کے قوانین اسلامی قوانین کے تحت ہیں، پاکستان کا آئین و قانون وہی رہے گا۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔