نور مقدم کیس، تھراپی ورکس کے سی ای او طاہر ظہور سمیت چھ ملازمین کی ضمانتیں منظور
نور مقدم کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اورسیشن کورٹ نے تھراپی ورکس کے سی ای او طاہر ظہور سمیت چھ ملازمین کی ضمانتیں منظور کرلی گئی ہیں ۔ سیشن کورٹ نے اس حوالے سے محفوظ فیصلہ سنا دیا ۔ فیصلے میں ملزمان کو 50 50 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا ملزمان میں طاہر ظہور،امجد ،دلیپ کمار ،عبدالحق ،وامق اور ثمر عباس شامل ہیں۔
پہلے تھراپی سنٹرکے مالک سمیت چھ ملزمان کی ضمانت کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا جبکہ نورمقدم قتل کیس میں ملزم ظاہرجعفرکے والدین ذاکرجعفر،عصمت آدم جی سمیت چارملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں چھ ستمبر تک توسیع کردی۔
اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں نورمقدم قتل کیس کی سماعت کی ۔ عدالت نے مرکزی ملزم ظاہرجعفرکے والدین ودیگرکے جوڈیشل ریمانڈ میں 6 ستمبرتک توسیع کردی ۔
سماعت میں ملزمان ذاکر جعفر، عصمت آدم جی،افتخاراورجمیل کو بخشی خانہ لایا گیا ۔ ملزمان کی بذریعہ روبکارحاضری لگا کر جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی گئی ۔
وکیل ملزم تھراپی سینٹر نے موقف اپنایا کہ ملزم طاہرظہورتھراپی سنٹرکا مالک اورعمررسیدہ ہے، ملزم طاہر ظہوردل کا مریض، گردہ متاثر اورہائی بلڈ پریشرکا مریض ہے۔ ملزم کی میڈیکل ہسٹری عدالت میں پیش کی گئی ۔
سماعت کے دوران مقتولہ نورمقدم کے والد کے وکیل نے موقف اپنایا کہ امجد کی سرجری ہوئی تھی اوراسپتال سے ڈسچارج ہوا پرمعاملہ پولیس کونہیں دیا گیا،امجد کو غلط طورپرملزم نہیں بنایا گیا ۔ میرے دوست وکیل نے جوکیسزکی مثال دی وہ اس کیس سے کہیں سے بھی نہیں ملتی۔
سرکاری وکیل حسن عباس نے استدعا کی ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کی جائے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
تاہم اب تھراپی ورکس کے سی ای او طاہر ظہور سمیت چھ ملازمین کی ضمانتیں منظور کرلی گئی ہیں ۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔