ہوسٹن: پاکستانی قونصل جنرل کی عافیہ صدیقی سے ملاقات
ہوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل نےڈاکٹرعافیہ صدیقی سےملاقات کی عافیہ صدیقی کی حالت بہترہے ، پاکستان نےمعاملہ امریکی حکام کے ساتھ اٹھاتے ہوئے حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرساتھی قیدی نے کیا ، حملہ 30 جولائی کو کارزویل جیل میں ہوا،ہوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل نےڈاکٹرعافیہ صدیقی سےملاقات کی ہے۔
ترجمان کاکہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معمولی زخم آئے تاہم انکی طبیعت ٹھیک ہے امریکی حکام سے واقعہ کی باضابطہ تحقیقیات کا مطالبہ کیا گیا۔
پس منظر
امریکی جیل میں قید پاکستانی نیورو سرجن ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر ساتھی قیدی نے حملہ کردیا، جس سے ان کا چہرا اور جسم زخمی ہوگیا ہے۔
اس حوالے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثرہ افراد کو معاونت فراہم کرنے والی برطانوی تنظیم "کیج" کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق امریکا کی ریاست ٹیکساس کی جیل میں قید عافیہ صدیقی کے وکلا نے بتایا ہے کہ ایک قیدی کافی عرصے سے عافیہ صدیقی کو مسلسل ہراساں کررہا تھا اور اسی نے ان پر کافی کے کپ میں موجود کھولتی ہوئی چیز ان کے چہرے پر پھینک کر حملہ کیا۔
پریس ریلیز میں بھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کپ میں کافی تھی یا کوئی اور مائع چیز موجود تھی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گرم چیز چہرے پر پھینکنے سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی زخمی ہوئیں اور انہیں حملے بعد سیل سے نکالنے کیلئے وہیل چیئر کا استعمال کرنا پڑا ہے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔