طالبان کی حمایت ، مغربی اورافغان حکام کا الزام مسترد
صدرعارف علوی نے مغربی اورافغان حکام کی جانب سے طالبان کی حمایت کا الزام مستردکردیا ۔ صدر مملکت عارف علوی کاکہنا تھا کہ پاکستان پر بےبنیاد الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
صدرمملکت نے مزید کہا کہ عمران خان نےکہاافغان مسئلےکاحل فوجی نہیں مذاکرات ہے، افغانستان کاہمسایہ ملک ہونےکےناطےپاکستان کی اہمیت ہے۔
عارف علوی نے مزید کہا کہ پاکستان اورامریکاکےباہمی تعلقات ہمیشہ اچھےرہےہیں، افغانستان میں افغان عوام کی مرضی کی حکومت ہونی چاہیے۔
صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ افغان عوام کی مرضی کی حکومت کی حمایت کریں گے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان عوام نے طالبان کوخوش آمدید کہاہے، پاکستان اور ترکی کاکئی معاملات پر یکساں مؤقف ہے۔
صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں کسی بھی طرح خون ریزی نہیں ہونی چاہیے، میں نہیں سمجھتاکہ افغانستان میں خواتین کےساتھ امیتازی سلوک ہوگا۔
دوسری جانب افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد وزیراعظم عمران خان سے برطانوی وزیراعظم بورس جونسن نے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور افغانستان کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم سے برطانوی وزیر اعظم بورس جونسن کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے ۔ ٹیلی فونک بات چیت میں افغانستان کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بات چیت میں وزیراعظم نے پرامن اور مستحکم افغانستان کی بنیادی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ تمام افغانوں کے تحفظ، حقوق کا احترام یقینی بنانا انتہائی اہم ہے،
وزیراعظم نے افغانستان میں ایک جامع سیاسی تصفیے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ دونوں وزرائے اعظم اس حوالے سے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔