وزیر اعظم عمران خان سے افغان سیاسی وفد کی ملاقات
وزیر اعظم عمران خان سے افغان سیاسی وفد کی ملاقات ہوئی ہے ۔
ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان سیاسی قائدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی ہے، افغان سیاسی قیادت مل بیٹھ کر مستقبل کا فیصلہ کرے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا حامی ہے۔
ملاقات میں افغان سیاسی وفد نے افغانستان میں قیام امن کی پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی ۔
ملاقات میں پاکستان اور افغانستان کا دو طرفہ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط کرنے پر اتفاق بھی کیا گیا۔
دوسری جانب افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان نے کابل میں نیوز کانفرنس کی۔
نیوزکانفرنس میں ترجمان طالبان نے کہا طالبان کو اس فتح پرمبارکباددیتاہوں۔تمام صحافیوں اور میڈیا نمائندگان کو شکریہ ادا کرتا ہوں۔20 سال کی جدوجہد کے بعد ہم آج آزاد ہوگئے۔ہم نے غیرملکیوں کو اپنے ملک سے نکال دیا۔میں پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہاآزادی کا حصول ہر قوم کا بنیادی حق ہے۔ہم نے بھی اس حق کو آج حاصل کرلیا ہے۔ میں اس موقع پراللہ کاشکراداکرتا ہوں۔اسلامی امارت کسی سےبھی انتقام نہیں لےگی۔ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے سامنے بہت چیلنجز ہیں۔
انہوں نے کہاہم یقینی بنائیں گے کہ افغانستان اب جنگی محاذ نہ بنے۔جن لوگوں نے ہم سے لڑائی کی ہم انہیں بھی معاف کرتے ہیں۔ہم اب کسی سے بھی جنگ نہیں چاہتے۔اسلامی امارت کسی کے ساتھ بھی جھگڑا نہیں چاہتی۔ہم نہ اندرونی اور نہ ہی بیرون دشمنی چاہتے ہیں۔مشاورت کے بعد جلد ہی ایک مضبوط اسلامی حکومت کا اعلان کریں گے۔
ترجمان طالبان نے کہاکابل میں داخل ہوئےتو کچھ لوگوں نےہنگامہ آرائی کی کوشش کی۔ہم کابل کی حفاظت کی یقینی بنائیں گے۔ہر روز سیکیورٹی میں اضافہ ہوگا۔غیرملکی سفارتخانوں کی سیکیورٹی بھی ہمارےلئے بہت اہم ہے۔تمام غیرملکی ادارے،ایڈ ایجنسزیز اوردیگرکویقین دلاتےہیں۔آپکی سیکیورٹی ہماری ذمہ داری ہے۔ طالبان 24 گھنٹے اپکی حفاظت کریں گے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔